اعجازوسیم باکھری:
مصباح الحق کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے نیوزی لینڈ کوچوتھے ون ڈے میں شکست دیکر سیریز میں 2-1کی برتری حاصل کرلی۔ نیپئرمیں کھیلے گئے چھ میچز کی سیریز کے چوتھے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو جیت کیلئے263رنزکاہدف دیا جو پاکستان نے چھ گیندیں پہلے ہی پورا کر شاندار فتح اپنے نام کی۔ پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار سٹاربیٹسمین مصباح الحق نے ادا کیا ، مصباح نے 91گیندوں پر93رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی تاہم وہ سنچری مکمل نہ کرسکے لیکن انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں وکٹ پر قیام کرکے نہ صرف خود کو ٹیم کا سب سے ذمہ دار کھلاڑی ثابت کیا بلکہ پاکستان کو سیریز میں برتری بھی دلا دی۔ مصباح الحق کی اننگز ہی وہ سب سے بڑا فرق ثابت ہوئی جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اُس وقت کیویز باؤلرز کے سامنے ڈٹ گئے جب ان کے ساتھی بیٹسمین وقفے وقفے سے آؤٹ رہے تھے لیکن ایک اینڈ پر مصباح الحق نے نہ صرف سکور بورڈ کو متحرک رکھا بلکہ نیوزی لینڈ کے باؤلرز کو میچ پر حاوی بھی نہ ہونے دیا۔
مصباح الحق کے علاوہ اوپنربیٹسمین احمد شہزاد اورسابق کپتان یونس خان نے 42،42رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کی ہدف تک رسائی کیلئے راہ ہموار کی۔ یونس خان بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوگئے لیکن وہ میچ کو اس سٹیج پر لے گئے تھے جہاں پاکستان کیلئے میچ کو جیتنا آسان ہوگیا تھا لیکن یونس کے بعد آنے والے بیٹسمین عمراکمل ، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق نے توقع کے مطابق کھیل پیش نہیں کیا لیکن آخر میں مصباح الحق کے ساتھ دینے کیلئے سہیل تنویر آئے اور انہوں نے ایک ہی اوور میں تین چوکے لگاکر پاکستان کو سرخرو کردیا۔ کپتان شاہد آفریدی سے بھرپورتوقعات وابستہ تھیں اور وہ گزشتہ میچ میں تیزترین ففٹی کرنے کی وجہ سے فارم میں بھی تھے لیکن ویٹوری کی ایک اچھی گیند پر وہ سوئپ کرنے کی کوشش میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے لیکن مصباح الحق نے ہمت نہ ہاری اور میچ جتوا کرہی باہرآئے۔ مصباح الحق کے بارے میں ایک رائے قائم ہے کہ وہ میچ بناتے تو ہیں لیکن اچھا اختتام نہیں کرسکتے لیکن آج مصباح نے ثابت کیا کہ وہ ایک بہترین میچ وننگ پلیئر بھی ہے اور کپتانی کی ریس میں بھی مصباح الحق اس لیے ٹاپ پوزیشن پر ہیں کیونکہ وہ ایک کامیاب بیٹسمین ہیں اور ان پر آنکھیں بند کرکے انحصار کیا جاسکتا ہے جبکہ شاہد آفریدی پر انحصار کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے جیسا کہ آج کے میچ میں ہوا وہ اپنے گزشتہ میچ کی کارکردگی کو نہ دوہرا سکے۔ آفریدی نے گزشتہ میچ میں ففٹی سکور کرکے ٹیم کی فتح میں اپنا حصہ تو ڈالا لیکن انہوں نے یہ ففٹی11میچوں کے بعد سکورکی تھی اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ اگلی ففٹی کیلئے مزید 11میچز میں ناکام نہیں ہونگے یہی وجہ ہے کہ شاہد آفریدی کو ورلڈکپ میں کپتان بنانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن اب صورتحال واضح ہوچکی ہے اور مصباح الحق نے اپنی فارم اور ذمہ دارانہ طرزعمل سے ثابت کردیا ہے کہ وہ ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی قیادت کیلئے موزوں ترین امیدوار ہیں۔ پی سی بی کے چیئرمین اعجازبٹ نے چار فروری کو کپتان کا اعلان کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم قیادت کا تاج کس کے سرسجے گا یہ تو اعجازبٹ ہی بہترجانتے ہیں لیکن پی سی بی کے ذرائع یہ دعوی کررہے ہیں کہ مصباح الحق مضبوط اور فیورٹ امیدوار ہیں۔
ورلڈکپ سے پہلے قومی ٹیم کا یکجا ہوکر نیوزی لینڈ کیخلاف عمدہ کھیل پیش کرنا خوش آئند ہے اور ٹیم کو یہاں اپنی غلطیاں جانچنے کا موقع بھی مل رہا ہے کیونکہ عالمی کپ کے شروع میں ہونے میں چند دن رہ گئے ہیں۔ پاکستانی ٹیم گزشتہ دو ورلڈکپ مقابلوں میں پہلے راؤنڈ سے باہر ہوئی تھی اس لیے شائقین کو اس بار ایشیا میں ہونیوالے ورلڈکپ ٹیم سے کافی توقعات وابستہ ہیں اور شائقین اس لیے بھی اپنی ٹیم کو میگاایونٹ میں فاتح دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ آئی سی سی نے پاکستان میں ہونیوالے ورلڈکپ کے میچز سیکورٹی کو جواز بناکر سری لنکا منتقل کردئیے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کیلئے اپنے میچز دوسرے ملک میں کھیلنا ایک چیلنج ہوگا کیونکہ سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش اپنے میچز اپنی سرزمین پر کھیلیں گے لیکن پاکستانی ٹیم کو یہ موقع میسر نہیں ہے۔ شائقین اپنی ٹیم کو گراؤنڈ میں سپورٹ نہیں کرسکیں گے لیکن ان کی نیک خواہشات ٹیم کے ساتھ ہونگی۔نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کا پانچواں میچ تین فروری کو کھیلا جائیگا اور اگر پاکستان اس میچ میں کامیاب ہوگیا تو ٹیسٹ کے بعد ون ڈے سیریز بھی پاکستان جیت لے گا اور ورلڈکپ سے پہلے ٹیم کیلئے یہ کامیابی عالمی کپ میں اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی۔