UrduPoint Sports

كھیل >> کرکٹ >> آئی سی سی چیمپئنزٹرافی2009 >> آسٹریلیا کی کرکٹ میں بادشاہت برقرار، چیمپئنزٹرافی جیت لی

اعجازوسیم باکھری:
ویل ڈن آسٹریلیا۔عالمی اور دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے چیمپئنزٹرافی میں بھی چیمپئنزکی طرح کرکٹ کھیل کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا، نیوزی لینڈ کو فائنل میں باآسانی روند کر رکی پونٹنگ الیون نے ثابت کردیا ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں بھلے وہ ناکام ہوں لیکن ون ڈے کرکٹ میں وہ ابھی تک ناقابل شکست ہیں اور فائنل میں اُن کے خلاف کوئی بھی ٹیم ہو ٹورنامنٹ انہوں نے ہی جیتنا ہوتا ہے۔آسٹریلیا چیمپئنزٹرافی کی واحد ٹیم ہے جسے کوئی بھی ٹیم نہیں ہراسکی ،2007ء اور2003ء کے عالمی کپ مقابلوں میں بھی آسٹریلیاکو کوئی بھی ٹیم شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی،پونٹنگ نے نہ صرف خود چیمپئنزٹرافی میں دوسنچریاں سکورکرکے اپنے آپ کو دنیائے کرکٹ کے دیگر کپتانوں سے ممتاز ثابت کیا بلکہ اپنی ٹیم کو ایک چیمپئنزکی طرح لڑایا اور بڑے میچز میں بڑے دل کے ساتھ کھیل کر بڑا ٹائٹل اپنے نام کیا۔بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایشزسیریز ہارنے اور سینئرکھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد رکی پونٹنگ الیون کی قوت میں کمی آچکی ہے اور آسٹریلیا اب اپنے زوال کی جانب سے چل پڑی ہے ، میرا ذاتی خیال بھی کچھ یہی تھا کہ شاید اب پونٹنگ کی کرکٹ میں چودھراہٹ ختم ہوچکی ہے لیکن اُس نے چیمپئنزٹرافی میں نہ صرف میری رائے کو غلط ثابت کیا بلکہ ہمیں یہ احساس بھی دلایا کہ آسٹریلیا ہی حقیقی چیمپئن ہے۔
چیمپئنزٹرافی کرکٹ میں شائقین کو شاندار مقابلے دیکھنے کو ملے لیکن آخر میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ میں ناقص امپائرنگ نے ٹورنامنٹ کا مزہ خراب کردیا لیکن اس کے باوجود نہ صرف چیمپئنزٹرافی کا ٹورنامنٹ ایک کامیاب ایونٹ رہا بلکہ ون ڈے کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں جو خدشات ظاہرکیے جارہے تھے وہ بھی چیمپئنزٹرافی کے کامیاب انعقاد سے ختم ہوگئے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ میزبان ملک جنوبی افریقہ اور وہاں موجود اکثریت بھارتی شائقین کی ہوم ٹیم انڈیا ٹورنامنٹ سے جلدی آؤٹ ہوگئی جس سے شائقین نے عدم دلچسپی شو کی ،تاہم پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین ایک دلچسپ میچ کھیلا گیا اور فائنل معرکہ بھی گوکہ شین واٹسن کی سنچری نے یکطرفہ بنادیا لیکن نیوزی لینڈ نے اپنی بولنگ کے پہلے اوورز میں پونٹنگ اور پائن کی وکٹ حاصل کرکے عالمی چیمپئن کو چیمپئنزبننے میں کچھ دیر کیلئے پریشان ضرور کیا ،لیکن پھر وہی ہوا جوگزشتہ کئی سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ آسٹریلیا نے اپنے حریف کو میچ میں واپس آنے کا موقع ہی فراہم نہیں کیا۔آسٹریلوی ٹیم کی یہ خوبی مجھے بہت پسند ہے کہ یہ لوگ بڑے میچ میں اعلیٰ معیار کی کرکٹ کھیلتے ہیں ، اگر آپ ورلڈکپ 99ء کے فائنل سے لیکر چیمپئنزٹرافی 2009ء تک جائزہ لیں تو ہرفائنل میچ میں آسٹریلیا نے یکطرفہ کامیابی حاصل کی اورمیچ کی ایک اننگز ختم ہونے کے بعد نتیجہ واضع نظرآیا۔99ء میں وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈکپ کے فائنل میں پہلے بیٹنگ کی اور پوری ٹیم بڑی مشکل سے 130رنز سے آگے نکل سکی ،جواب میں آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف دووکٹوں پر پورا کرلیا ، ورلڈکپ2003ء کے فائنل میں بھارت کے خلاف آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے رنز کاپہاڑ کھڑا کردیا ، پونٹنگ نے تاریخی 140رنز کی اننگز کھیلی اور بھارت کو میچ جیتنے کیلئے350رنز کے قریب کا ہدف دیا جو بھارتی ٹیم کیلئے ناممکن ثابت ہوا ،اسی طرح چیمپئنزٹرافی 2007ء کے فائنل میں آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو یکطرفہ مقابلے میں شکست سے دوچار کیا گوکہ کرس گیل نے کافی مزاحمت کی لیکن اینڈپر آسٹریلیا نے میچ کو یکطرفہ بنا دیا ، اسی طرح ویسٹ انڈیز میں ہونیوالے ورلڈکپ 2007ء کے فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کرکے رنزکے انبار تلے دبا دیا ، گلکرسٹ نے اپنے کیرئیر کی تاریخی اننگز کھیلی اور 104گیندوں پر 149رنز جڑ دئیے ، بارش کی وجہ سے میچ 38اوورز پر مشتمل تھا جہاں آسٹریلیا نے سری لنکا کو 281رنز کا مشکل ٹارگٹ دیا جواب میں ایشین ٹائیگرز 215تک ہی تعاقب کرسکے ، اس بار چیمپئنزٹرافی کا فائنل دیکھ لیں،آسٹریلیا نے پہلے بولنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 200رنز سے آگے نہیں بڑھنے دیا اور بیٹنگ میں مطلوبہ ہدف چاروکٹوں پر باآسانی پورا کرلیا۔ان تمام بڑے میچز میں کارکردگی سے ثابت ہوتاہے کہ آسٹریلیا بڑے میچوں کی ٹیم ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ناقابل شکست چلی آرہی ہے۔
ایک طرف آسٹریلوی کھلاڑی اور شائقین لگاتا ر دوسری بار چیمپئنزٹرافی جیتنے کا جشن منارہے ہیں تو دوسری جانب پاکستانی ٹیم اپنے گھر لوٹ آئی ہے ۔کہتے ہیں کہ شکست بہت سی چیزوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور جیت تمام چیزوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔شعیب ملک قومی ٹیم کے سابق کپتان بھی ہیں اور ماشاء اللہ وہ اب سینئر کھلاڑی بھی کہواتے ہیں لیکن ایک بات سمجھ سے بالاتر کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی بات پر ناراض رہتے ہیں۔ابھی کل کی بات ہے کہ چیمپئنزٹرافی میں شرکت کے بعد قومی ٹیم کے چند کھلاڑی لاہور ائیرپورٹ پر آئے اور کرکٹ بورڈ کی جانب سے دعوت دی گئی تھی کہ کو چ انتخاب عالم ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرینگے ، میں بھی اپنے ساتھی رپورٹرز کے ہمراہ وہیں پہ تھا ، ابھی انتخاب عالم میڈیا کے سوالات کاجواب دے رہے تھے کہ پیچھے سے شعیب ملک کو پی سی بی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے لوگ لے آئے اوروہ ہمارے درمیان کھڑے ہوکر انتظار کرنے لگا، اس دوران شعیب ملک نے وہاں موجود چند رپورٹرز کو کہاکہ ”انتخاب عالم کو سخت سوالات کریں اور ان سے فلاں فلاں باتیں پوچھیں “۔خیر شعیب ملک کے بولنے کی جب باری آئی توموصوف آتے ہی ٹیم مینجمنٹ پر برس پڑے کہ مجھے ایک نمبر پر کیوں نہیں کھلایا گیا ، کبھی اوپننگ اور کبھی ون ڈاؤن پوزیشن اس سے میری بیٹنگ کارکردگی متاثرہوئی ہے،ملک نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ اوپننگ اور ون ڈاؤن پوزیشن پر نہیں کھیلیں گے بلکہ جواُس کی جوپوزیشن ہے مڈل آرڈروہ وہیں کھیلے گا ، اُس نے مزید کہاکہ ہمارے باؤلر زنے نیوزی لینڈ کے خلاف اچھی کرکٹ نہیں کھیلی اور اگر اہم موقع پر (نام لیے بغیر کہا)یونس کیچ کرلیتے تو ہم جیت سکتے تھے۔شعیب ملک نے تمام باتیں درست کیں جن سے سوفیصد اتفاق کیا جاتا ہے لیکن اس کی باتوں سے بغاوت اور اختلافات کی بو آرہی تھی اور صاف نظرآرہا تھا کہ شعیب ملک بھارت کے خلاف سنچری کرنے کے بعد اپنی جگہ پکی کرچکا ہے اس لیے وہ ٹیم مینجمنٹ پربرس رہا تھا ، اُس کے مطالبات اپنی جگہ درست ہیں لیکن شعیب نے جس طرح میڈیا میں آکر یہ باتیں کیں ہیں ممکن ہے اُس نے سوچ سمجھ کر کی ہوں گی اور اُسے اندازہ بھی ہوگا کہ ایسا کرنے سے کیا ہوگا لیکن ٹیم کے مفاد کیلئے یہ باتیں درست نہیں ہیں کیونکہ اس سے ٹیم میں گروپ بندی کا عنصروجود میں آجاتاہے جس کا نقصان ٹیم کو شکستیں کھا کر اٹھانا پڑتا ہے۔شعیب ملک کو اگر کوئی تحفظات بھی ہیں تو ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرے اگر وہاں اُس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو چیئرمین پی سی بی سے بات کرے اور اگر پھر بھی بات نہ بنے توتب جاکر میڈیا کا سہارا لے کیونکہ میڈیا میں آنے کے بعد ہربات کے کئی پہلو نکالے جاتے ہیں جس سے ٹیم کے مورال ،تیاری اور کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے اور اس سے کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات کی فضا قائم رہتی ہے۔ لہذا ملک صاحب نے نجانے کن مقاصد کو مدنظررکھ کر نیا محاظ کھولنے کی کوشش کی ہے اس بارے میں وہیں بہتر جانتے ہیں لیکن بطور پروفیشنل کھلاڑی اور سابق کپتان ہونے کے ناطے اُسے ایسی حرکات زیب نہیں دیتیں۔
بہرحال قارئین ۔آسٹریلوی ٹیم ایک بار پھر کرکٹ کی سلطنت پر قابض ہوچکی ہے اور اب آسٹریلیا پربرتری حاصل کرنے کیلئے اور آسٹریلیا سے آگے بڑھنے کیلئے تمام ٹیموں کو 2سال تک انتظار کرنا چاہئے کہ کیونکہ اگلہ ورلڈکپ 2011ء میں کھیلا جانا ہے جبکہ چیمپئنزٹرافی کا ابھی اعلان نہیں ہوا، لہذا پونٹنگ الیون نے چیمپئنزٹرافی جیت کر اگلے دو سال تک کیلئے خود کو بادشاہت کی کرسی پر بٹھا دیا ہے جبکہ باقی ٹیموں کیلئے آسٹریلیا کو اور اُس کے مقام کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔

     
مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.