اعجازوسیم باکھری:
پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ ملیبورن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگیا ہے۔ایم سی جی میں کھیلے جارہے ہیں افتتاحی ٹیسٹ میچ کے پہلے روزپاکستان کی ناقص فیلڈنگ کی بدولت آسٹریلیا کو تین وکٹ پر305رنز بنا نے کا موقع مل گیا۔آسٹریلیا کے دونوں اوپنر کیچز ڈراپ ہونے کے باوجود سنچری نہ کرسکے ۔ کرسمس کے اگلے روز باکسنگ ڈے پر شروع ہونیوالے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ۔پاکستان کی جانب سے پہلے ٹیسٹ میں عمرگل اور دانش کنیریا کے زخمی ہونے کی وجہ سے سعید اجمل اورعبدالرؤف کو میدان میں اتاراگیا جہاں دونوں پہلے روز کے کھیل میں متاثر کن بولنگ کرنے میں ناکام رہے۔آسٹریلوی اننگز کے آغاز میں 12 کے سکور پر عمر اکمل نے سائمن کٹیج اور67 پر مصباح الحق نے شین واٹسن کا کیچ چھوڑدیا لیکن اس کے باوجود دونوں اوپنرز سنچری سے محروم رہے۔واٹسن93 اور سائمن کٹیچ98 رنز بنا سکے ۔کپتان رکی پونٹنگ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے صرف60گیندوں پر57 رنز بنائے ،محمد آصف نے دو کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا۔پہلے دن کے اختتام پر آسٹریلیا نے تین وکٹ305 رنز بنالئے ۔مائیکل ہسی38 اور نائٹ واچ مین نیتھن ہورٹز5 رنز بناکر کریز پر موجود ہیں ۔
پہلے روز کے کھیل کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستانی باؤلرز کو آسٹریلوی پچز پر جیت کیلئے سخت محنت کرنا ہوگی کیونکہ ابتدائی روز کے کھیل سے یہ واضع ہوگیا ہے کہ پاکستان اس سیریز میں فیورٹ نہیں ہے حالانکہ سیریز شروع ہونے سے پہلے بہت سوں کا خیال تھا کہ پاکستان کینگروز کو سیریز ہرانے کی پوزیشن میں ہے لیکن افتتاحی روز باؤلرز بے بس نظرآئے۔پہلے روز باؤلرز کی کارکردگی کو بھی برا نہیں کہا جاسکتا کیونکہ آسٹریلوی بیٹسمین ایک حکمت عملی کے تحت کھیلے جس میں وہ کامیاب رہے۔اگر پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں پر نظرڈالی جائے تو پاکستان نے پچھلے دو سال کے دوران صرف آٹھ جب کہ آسٹریلیا نے 27 ٹیسٹ میں حصہ لیا۔ پاکستان اورآسٹریلیاکے درمیان آسٹریلین سرزمین پرکھیلے گئے 29 ٹیسٹ میچوں میں سے 18میں میزبان کا پلہ بھاری رہا۔پاکستان کو4 میں فتح نصیب ہوئی جب کہ7میچز نتیجہ خیزثابت نہ ہوسکے ۔ میلبورن میں1990ء سے مختلف ٹیموں کے خلاف20 ٹیسٹ میچوں میںآ سٹریلیا نے 15 میں کامیابی حاصل کی جب کہ صرف 3 میں اسے شکست ہوئی۔ پہلے ٹیسٹ کے لیے مصنوعی وکٹ تیارکی گئی ہے جو بہت زیادہ تیزنہیں ہے ۔ وکٹ کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ پانچوں دن اس کا رویہ بہتررہے گا۔ میلبورن میں جمعے کو بھی ہلکی بارش ہوئی اور اس ٹیسٹ کے دوران موسم کے اثرانداز ہونے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی کپتان محمد یوسف نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم متوازن اور مضبوط ہے اورآسٹریلیا کوہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ٹیسٹ کرکٹ مشکل ہوتی ہے ،30 گھنٹے کھلاڑیوں کواچھی کارکردگی دکھانا پڑتی ہے ۔ ہماری کوشش ہوگی کہ پانچوں دن بہترصلاحیتوں کامظاہرہ کریں۔ پاکستان کے پاس مضبوط بولنگ اٹیک ہے جو ٹیسٹ میں20 وکٹ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین ٹیسٹ میچوں میں ہماری پرفارمنس قابل تعریف رہی۔ انہوں نے کہاکہ ہم میلبورن گراوٴنڈ پراپنی پچھلی کارکردگی کودہرانے کے ارادے کے ساتھ میدان میں اتریں گے ۔ آسٹریلوی ٹیم نے ہوم گراوٴنڈ پر ویسٹ انڈیزکے خلاف سیریزمیں2-0 کی کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان کی ٹیم نے نیوزی لینڈکے خلاف اس کے ہوم گراوٴنڈ پر ٹیسٹ سیریز1-1 سے برابرکھیلنے کے بعدآسٹریلیاکارخ کیا ہے ۔انجری کا شکارہونے کے بعدآسٹریلوی ٹیم کے کپتان رکی پونٹنگ پاکستان کے خلاف باکسنگ ٹیسٹ میں شرکت کرکے ٹیم کو حوصلہ فراہم کیا اور بیٹنگ میں بھی وہ جارحانہ مو ڈ میں نظرآئے ۔
دوسری جانب آسٹریلیا میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے مسلسل غلط بیانی سے کام لینے میں لگی ہوئی ہے اور جھوٹے دعوے کر کے میڈیا سے حقائق چھپا نے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ پہلے ٹیسٹ کے آغاز سے قبل فاسٹ بولر عمر گل ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوگئے حالانکہ چند روز قبل میڈیا میں عمر گل کے ان فٹ ہونے کی خبر کی نشرہونے بعد ٹیم کے منیجر عبدالرقیب، کوچ انتخاب عالم اور کپتان محمد یوسف نے عمر گل کی فٹنس کو حوصلہ افزا قرار دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی تھی کہ فاسٹ بولر مکمل فٹ ہیں اور ان کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ اس موقع پر ٹیم انتظامیہ نے یہ بھی کہا تھا کہ فاسٹ بولر نے چار گھنٹے تک پریکٹس سیشن میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ بولنگ کے جوہر بھی دکھائے ۔ دوسری جانب کسی بھی آسٹریلین میڈیا نے عمر گل کو بولنگ کرتے ہوئے نہیں دکھایا اور نہ ہی ان کو فٹ قرار دیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ملک کے ایک ادارے سے تعلق رکھنے والے ٹیم کے اہم آفیشل مسلسل اپنے ادارے کے ان فٹ کھلاڑی کی صحت کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے کر جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ ان کے دعوے کی قلعی جمعے کو اس وقت کھل گئی جب کپتان محمد یوسف نے جمعے کو واضح طور پر کہا کہ عمر گل فٹ نہیں اور ان کی جگہ عبدالروٴف کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ دوسری جانب سپنر دانش کنیریا کی فٹنس کے بارے میں دیئے گئے بیانات حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکے ۔ انگلی کی انجری کا شکار دانش کنیریا کو ڈاکٹر نے انگلی پر ٹیپ باندھ کر کھیلنے کی اجازت دے دی تاہم انٹرنیشنل کرکٹ قوانین کے تحت وہ اس کے اہل نہیں ہیں کہ ٹیپ باندھ کر کھیل سکیں اسی لیے ان کی جگہ آف سپنر سعید اجمل کو شامل کیا گیا ہے۔سعید اجمل کو پہلے ٹیسٹ کے افتتاحی روز کوئی وکٹ نہیں ملی اور انہیں آسٹریلوی باؤلرز کی جانب سے مار بھی خوب پڑی تاہم مصباح الحق نے ان کی گیند پر واٹسن کا اہم کیچ گرا کر انہیں وکٹ سے محروم کردیا تھا ۔پاکستان کے ہاتھ سے ابھی ٹیسٹ میچ نہیں نکلا ، باؤلرز ابھی مزید محنت کریں کیونکہ ہماری بیٹنگ لا ئن اپ پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔باؤلر زکے ساتھ ساتھ فیلڈرز کو ذمہ اری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ ہماری ٹیم کی فیلڈنگ بہت ہی بری ہے ،آج بھی میچ کے پہلے روز کئی آسان کیچز گرائے گئے جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی قومی ٹیم نے مسلسل ناقص فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا تھا ۔ وقاریونس کو بولنگ اورفیلڈنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے تاہم فوری طور پر تو بہتر نتائج نہیں آسکتے لیکن امید ہے وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آجائے گی۔