اعجازوسیم باکھری:
سال 2010ء کا ابھی اختتام نہیں ہوا ، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ٹیم پر چھائے مایوسی کے بادل تاحال نہ چھٹ سکے کیونکہ 2010ء کاسال پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں سب سے کٹھن اورمایوس کن سال رہا ہے اور نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں بھی مایوسی نے پاکستانی ٹیم کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔میزبان ٹیم نے یکطرفہ مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے تین میچوں کی سیریز میں ایک صفرکی برتری حاصل کرلی ہے۔ آکلینڈ کے ایڈن پارک میں کھیلے گئے میچ میں کیوی پیسر ٹم ساؤتھی دونوں ٹیموں میں واضح فرق ثابت ہوئے ، ساؤتھی کی تباہ کن بولنگ کے سامنے پاکستانی بلے باز بے بس نظرآئے اور وہی پرانے انداز میں غیرضروری شارٹس کھیل کر اپنی وکٹیں گنوایں۔ ساؤتھی نے یونس خان ، محمد حفیظ اورعمراکمل کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک مکمل کی ، عمراکمل کا ایل بی ڈبلیو آؤٹ امپائرکا غلط فیصلہ تھا لیکن چونکہ پاکستان اورنیوزی لینڈ کی سیریز میں ری ویوسسٹم استعمال نہیں کیا جارہا ،لہذا ساؤتھی نے امپائرکی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے تیسرے باؤلرکے خانے میں اپنا نام درج کرا لیا ہے ۔ ساؤتھی سے پہلے بریٹ لی اور جیکب اورم یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔
پہلے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں اگر پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی پر نظردوڑائی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹیم میں کوئی بلے باز موجود ہی نہیں تھا کیونکہ دونوں ٹاپ سکورر ٹیل اینڈرز ہیں ، عمرگل اور وہاب ریاض نے بالترتیب 30،30رنز بنائے جبکہ محمد حفیظ نے 24 اور کپتان شاہد آفریدی بطور اوپنرکھیلتے ہوئے 20رنز سکور کیے۔ آفریدی ایک طویل عرصہ بعد اوپننگ کیلئے میدان میں اترے اور 2چھکے لگاکر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تاہم وہ زیادہ دیر تک وکٹ پر قیام نہ کرسکے تاہم حفیظ کے ہمراہ 4اوورز میں 37رنز کا اوپننگ آغاز فراہم کرکے اچھی شروعات کی لیکن بدقسمتی سے بعد میں آنے والے بیٹسمین بری طرح ناکام رہے۔ پاکستانی ٹیم کا یہ ہمیشہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی کس دورے یا ٹورنامنٹ کا آغاز ہوتا ہے تو ٹیم ابتدائی میچ ہار جاتی ہے ، نجانے یہ حکمت عملی کاحصہ ہے یا ٹیم لوکل کنڈیشن میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرپاتی اور ابتدائی میچ ہار جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے دورے پر تو پاکستان کو پریکٹس میچ میں آکلینڈ شہر کی ٹیم کے ہاتھوں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب پہلے ٹونٹی میچ میں بھی ٹیم شکستوں کے بھنور سے نہ نکل سکی حالانکہ نیوزی لینڈ بھی بھارت اور بنگلہ دیش کیخلاف بری طرح پٹنے کے بعد پاکستان کے مدمقابل آیا مگر وہ تو اپنی ناکامیوں کے سلسلے کو روکنے میں کامیاب رہے تاہم پاکستان اب بھی وہیں کھڑا ہے جہاں پہلے تھا۔
پاکستان اورنیوزی لینڈ کی ٹیموں کا اگرآپس میں موازنہ کیا جائے تو قومی ٹیم کی ہمیشہ کیویز پر برتری رہی ہے، پاکستان نے کیویز کو کبھی آسانی سے جیتنے کا موقع نہیں دیا لیکن اس بار کیویز ٹیم نے اپنے ہوم گراؤنڈزپر عمدہ آغازکرکے پاکستان پربرتری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ ابتدائی طور پر کامیاب بھی رہے ہیں ، پاکستان کو سیریز میں واپس آنے کیلئے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص بلے بازوں کو ہوش سے بیٹنگ کرنا ہوگی۔ گزشتہ دو سال سے پاکستان کو پیشترمیچز میں بیٹسمینوں کی غفلت سے شکست ہوئی اور ہمیشہ بیٹنگ آرڈرز پر ہی تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن عجیب اتفاق ہے کہ بیٹنگ میں بہتری آنے کی بجائے کارکردگی مزید ابتر ہوتی جارہی ہے۔ یواے ای میں پاکستان کو جنوبی افریقہ کیخلاف ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی سیریز میں شکست ہوئی تووہاں بھی بیٹسمینوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اب نئے حریف کے سامنے نئی کنڈیشن میں بجائے نئے عزم اوربہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترا جاتا مگر وہی پرانے طرز پر کرکٹ کھیلی گئی جس کا خمیازہ سیریز میں ایک صفرکے خسارے میں جاکر بھگتنا پڑا۔ ٹونٹی ٹونٹی سیریز کے اب بھی دو میچز باقی ہیں اور پاکستانی ٹیم میں کم بیک کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے مگر ٹیم کو کیویز کنڈیشن میں خود کوایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے تب جاکر پاکستان فتوحات کے ٹریک پر واپس آئے گا۔ پہلے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں باؤلرز نے قدرے بہتر کھیل پیش کیا اور آصف اور عامر کی عدم موجودگی میں باؤلرز کی حالیہ کارکردگی کو بہتر ہی کہا جاسکتا ہے مگر بیٹسمینوں کو ذمہ داری دکھانی چاہئے اور انہیں باؤلرز کا ساتھ دینا ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کا دوسرا معرکہ منگل کے روز پاکستانی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے کھیلا جائیگا ۔