اعجازوسیم باکھری:
پاکستان اورنیوزی لینڈ کے مابین دوٹیسٹ میچز کی سیریز کا آخری معرکہ ہار جیت کے بغیر ڈرا ہوگیا یوں پہلے میچ میں کامیابی کے بعد سیریز پاکستان نے اپنے نام کرلی۔ویلنگٹن ٹیسٹ کے آخری رو ز پاکستان کو میچ میں کامیابی کے لئے نیوزی لینڈ نے 274 رنز کا ہدف دیا اور کھیل ختم ہونے تک پاکستان نے پانچ وکٹوں پر 226رنزبنائے یوں دوسرا ٹیسٹ ہار جیت کے بغیر ہی اختتام پذیر ہوگیا۔پاکستان کی جانب سے یونس خان نے 81 اور کپتان مصباح الحق نے 70 رنز ناٹ آوٴٹ کی شاندار اننگز کھیلی۔پاکستان نے یہ 5 سال بعد کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے ۔قومی ٹیم نے آخری مرتبہ2006 میں ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔حالیہ سیریز میں قومی ٹیم نے ایک بار پھر شاندار کھیل پیش کیا اور مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے یہ دوسری سیریز کھیلی اور تاریخی فتح حاصل کی۔کپتان نے انفرادی طور پر دونوں میچز میں شاندار کھیل پیش کیا ، پہلی اننگز میں مصباح نے 99رنز بنائے اور ایک رنز کی کمی کی وجہ سے سنچری مکمل نہ کرسکے جبکہ دوسری اننگز میں بھی مصباح نے قائدانہ اننگ کھیلی۔پانچ روز پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو آغاز زیادہ اچھا نہ تھا اور دن کے دوسرے ہی اوور میں پاکستان کو پہلا نقصان اٹھانا پڑا۔ توفیق عمر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے ،توقیق عمر کے آوٴٹ ہونے کے بعد اظہر علی بھی زیادہ دیر کریز پرنہ ٹھہر سکے اور10 کے انفرادی اسکور پر کرس مارٹن کا شکار بنے ۔ پہلی اننگز میں امپائر کے غلط فیصلے کا شکار ہونے والے محمد حفیظ نے کچھ مزاہمت کی لیکن وہ بھی32 رنز بنا کر مارٹن کا شکار بنے ۔ ایک موقع پر صرف42 رنز کے مجموعی اسکور پر پاکستان کی تین وکٹیں گرچکی تھیں، لیکن کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے چوتھی وکٹ میں شراکت میں 118 رنز بناکرٹیم کو مشکلات سے نکالا۔ یونس خان نے اچھی فارم کو برقرار رکھتے ہوئے میچ میں دوسری نصف سنچری مکمل کی۔ وہ81 رنز بنا کر چائے کے وقفے سے پہلے آخری گیند پر ساوٴتھی کا شکار بنے جبکہ آخری سیشن میں ایک موقع پر لگ رہا تھا کہ نیوزی لینڈ میچ پر گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن مصباح الحق نے کیویز ٹیم کے ہر حربے کو ناکام بناتے ہوئے اپنی ٹیم کو نہ صرف مشکلات سے نکالا بلکہ میچ کو ڈرا کرکے سیریز اپنے نام کی۔
حالیہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم نے کھیل کے تینوں شعبوں میں عمدہ کھیل پیش کیا ، بولنگ میں تنویر احمد،عمرگل اور عبدالرحمان نے شاندار کارکردگی دکھائی جبکہ بیٹنگ میں یونس خان ،مصباح الحق او رتوفیق عمر نمایاں رہے ۔مصباح الحق کی قیادت میں کھلاڑیوں میں اتحاد نظرآیا اور ٹیم میں ڈسپلن بھی دیکھنے میں آیا ۔پاکستان اورنیوزی لینڈکے مابین چھ ون ڈے میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ22جنوری کو کھیلا جائیگا اورٹیم کی قیادت شاہد آفریدی کرینگے ۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈنے ورلڈکپ کیلئے 15رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے جبکہ حسب روایت کپتان کا اعلان بعد میں کیا جائیگا ۔ٹیم سے سٹارکرکٹر محمدیوسف اور تنویر احمد کو ڈراپ کردیا گیا ہے حالانکہ محمدیوسف نے قومی ڈومیسٹک ون ڈے کپ کے دو میچز کھیل کر نصف سنچریاں سکورکیں جبکہ تنویر احمد نے نیوزی لینڈ کے خلاف بہترین بولنگ کی مگر وہ بھی سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
میگاایونٹ میں کامران اکمل وکٹ کیپنگ کرینگے جبکہ کپتان کے عہد ے کیلئے شاہد آفریدی کے پوائنٹس میں کمی آئی ہے اور پی سی بی انتظامیہ مصباح الحق کے طرز قیادت سے خوش ہے تاہم کپتان کا حتمی فیصلہ نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کے بعد کیا جائیگا ۔گزشتہ روز پی سی بی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردیا پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ جو ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے ان میں سے تنویر احمد کو ڈراپ کرد یا گیا ہے باقی تمام کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے حتمی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم میں محمد حفیظ کامران اکمل یونس خان مصباح الحق اسد شفیق عمر اکمل شاہد آفریدی عبد الرزاق عبد الرحمان سعید اجمل شعیب اختر عمر گل وہاب ریاض سہیل تنویر اور احمد شہزاد شامل ہیں جبکہ محمد یوسف اور تنویر احمد کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا واضح رہے کہ ماضی میں ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کا اعلان باقاعدہ پریس کانفرنس میں کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ نہ تو سلیکشن کمیٹی نے کسی قسم کی پریس کانفرنس اور نہ ہی میڈیا کو باقاعدہ طورپر بیان جاری کیا گیا ہے بلکہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کھلاڑیوں کے نام سامنے لائے گئے ۔کرکٹ بورڈ کی جانب سے محمدیوسف کو ڈراپ کرنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی میڈیا کو بریفنگ دی گئی ، چیف سلیکٹر محسن حسن خان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں نے میڈیا سے آنکھیں چرانی شروع کردی ہیں اور اگر کوئی عہدیدار میڈیا سے بات چیت کرنے کیلئے راضی بھی ہوتا ہے تو غصیلی آنکھیں دکھا کراسے چپ کرادیا جاتا ہے۔پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا کہ ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ کیلئے ٹیم کا اعلان پریس ریلیز سے کیا گیا حالانکہ چیف سلیکٹر محسن حسن خان دیگر سلیکٹرز کے ساتھ قذافی سٹیڈیم میں موجود تھے لیکن نئی میڈیا پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کا ناموں کا اعلان پریس ریلیز کے ذریعے کیا گیا۔پاکستان کے برعکس پوری دنیا کی ٹیموں کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا گیا اور بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ سلیکٹرز پریس کانفرنس کریں تاکہ اگر کسی کھلاڑی کے بارے میں سوال بھی کیا جائے تو جواب تو مل سکے لیکن پی سی بی میں ایسا نہیں ہوتا۔ابھی گزشتہ روز کا واقعہ دیکھ لیں کہ پریس ریلیز جاری کرانے کے بعد جب محسن خان قذافی سٹیڈیم سے جارہے تھے تو میڈیا کے نمائندگان نے انہیں بات کرنے کیلئے روکا تو انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن جب وہ راضی ہوکر گاڑی سے اترنے لگے تو پی سی بی کے میڈیا منیجر نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ ”انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں“محسن خان میڈیا منیجر کی وارننگ پر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گئے اور صحافیوں سے معذرت کرتے ہوئے کہاکہ ”میں کرکٹ بورڈ کا ملازم ہوں ،آپ لوگ میری مجبوری کو سمجھیں“۔یہ الفاظ اس محسن خان کے ہیں جو ایک زمانے میں ٹی وی پر بیٹھ کر کرکٹ بورڈ کے اس طرح کے طرز عمل کو ہدف تنقید بنایا کرتے تھے اور چیف سلیکٹر بننے کے بعد بھی محسن خان نے بلند آواز میں کہا تھا کہ وہ ڈمی نہیں آزاد اور خودمختار چیف سلیکٹر کے طور پر کام کرینگے لیکن آج ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ میڈیا کا سامنا کرسکیں ، ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ کی ٹیم کا اعلان ای میل کے ذریعے کرکے محسن خان نے ثابت کیا کہ وہ کمزور چیف سلیکٹرہیں اوراگر ان کے پاس سوالوں کا جواب نہیں توکم از کم استعفیٰ دینے کا جواز تو ہے ۔