سجاد حسین:
پاکستان اوربنگلہ دیش کے مابین دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ آج سے شروع ہورہا ہے۔ قومی ٹیم بنگلہ دیش کیخلاف ایک روزہ سیریز میں کلین سوئپ مکمل کرکے آج سے ٹیسٹ سیریز کی مہم جوئی شروع کررہی ہے جس میں پاکستان ہارٹ فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اترے گا اور بنگلہ دیش پر قائم کردہ اپنی برتری کو بھی برقرار رکھے گا۔ گوکہ بنگلہ دیش ہوم گراؤنڈ پر کھیل رہا ہے لیکن پاکستانی ٹیم کے پاس ٹیسٹ بلے باز ہیں جن سے بہت امیدویں وابستہ ہیں۔ مصباح ، یونس خان اورحفیظ پاکستان ٹیم کے تین ایسے بلے باز ہیں جو کسی بھی مضبو۔۔ باؤلنگ اٹیک کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ایک روزہ سیریز میں تو بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان کا مقابلہ کرنے میں یکسر ناکام رہی اور ٹیسٹ سیریز میں بھی کچھ اسی طرز کے نتائج کی توقع ہے۔
ون ڈے سیریز میں پاکستان نے بنگلہ دیش کی مزاحمت کا سامنا بھی کیااور مشکلات بھی دیکھیں اور کئی ایک بار تو ایسے مواقع آگئے جب پاکستان کی شکست یقینی لگنے لگی تاہم باؤلرز نے پاکستان کو کامیابی دلانے میں اہم کردار رہا ہے۔ بنگلہ دیش کیخلاف عمدہ کارکردگی کی وجہ سے فیظ عالمی رینکنگ میں میں باؤلنگ کے شعبے میں دوسرے نمبر آگئے ہیں جبکہ سعید اجمل پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔ پاکستانی ٹیم کیلئے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ اس کے دو کھلاڑی عالمی رینکنگ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں حفیظ نے پوری سیریز میں عمدہ باؤلنگ کی جبکہ شاہد آفریدی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان کو مشکلات سے نکال کر جیت کے ٹریک پر ڈال دیا۔ رواں برس پاکستان نے 32ون ڈے کھیلے اور 25میں کامیابی حاصل کی ، مصباح نے ٹیم کو جیت کے ٹریک پرڈ ال دیا ہے ، پاکستانی ٹیم کی لگاتارفتوحات اپنی جگہ لیکن ٹیم کو اپنی کارکردگی میں تسلسل پیدا کرنا ہوگا کیونکہ تین ایک روزہ میچز میں صرف عمراکمل نے سب سے زیادہ زیادہ سکورکیا جس میں اس کی دو نصف سنچریاں شامل ہیں ، عمراکمل کے علاوہ کوئی دوسرا بلے باز رنز سکور نہیں کرسکا، ٹیسٹ سیریز میں کپتان سمیت یونس خان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وکٹ پر قیام کریں اور سکور کریں ، مصبا ح الحق ایک خالص ٹیسٹ پلیئر ہیں جبکہ محمد حفیظ کا بھی رواں سال بیٹنگ میں ریکار ڈ کافی شاندار رہا ہے تاہم اب ٹیسٹ سیریز میں سکور کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان کو بیٹنگ کے شعبے میں خامیوں کو دور کرنا ہوگا اور اس کیلئے کوچ محسن خان کو کام کرنا چاہئے کیونکہ ان کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم جیت تو رہی ہے لیکن بیٹنگ کے شعبے میں موجود خامیاں ختم نہیں ہورہی ہیں جن پر انہیں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اگلے ماہ انگلینڈکیخلاف ہونیوالی سیریز میں پاکستانی ٹیم کو بیٹنگ کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگتا پڑسکتا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین اب تک ہونیوالے ٹیسٹ میچز پر اگرنظر دوڑائی جائے تو پاکستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین اب تک 6ٹیسٹ میچز کھیلے گئے ہیں اور تمام میں پاکستان ٹیم کامیاب رہی ، آخری بار 2003ء میں بنگلہ دیش ٹیم نے پاکستان کے دورہ میں 3ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی اور اسے وائٹ واش کی شکست ہوئی، ملتان میں ہونیوالے آخری ٹیسٹ میں پاکستان نے انضمام الحق کی مرد بحران اننگ کی بدولت انتہائی اعصاب شکست مقابلے میں بنگلہ دیش کو ایک وکٹ سے کامیابی ملی۔ ٹیسٹ میچز کے انفرادی ریکارڈز میں بنگلہ دیش کے سابق کپتان حبیب البشر6میچز میں ایک سنچری اور5نصف سنچریوں کی بدولت 554رنز کے ساتھ نمایاں ہیں جبکہ پاکستان کے محمد یوسف 5میچز میں 2سنچریوں اور2نصف سنچریوں کی مدد سے 503 رنز بناکر دوسرے نمبر پرہیں۔محمدیوسف کوہی طویل ترین 204رنز ناٹ آؤٹ کی اننگ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کیخلاف جاوید عمرنے2003ء کے پشاور ٹیسٹ میں 119رنز کی اننگ کھیلی۔ باؤلنگ میں پاکستان کے دانش کنیریا نے سب سے زیادہ 34شکار کیے جبکہ سابق کپتان وقاریونس 18وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ، بنگلہ دیش کی جانب سے لفٹ آرم سپنر محمد رفیق 17وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پرہیں۔