سجاد حسین:
آہ! آج سے پچاس برس پہلے کوئی یہ تصوربھی نہیں کرسکتا تھا کہ برطانوی سامراج کا حصہ رہنا والا پاکستان برطانیہ کو کرکٹ کے میدان میں کبھی وائٹ واش شکست سے دوچار کریگا۔ قسمت کے کھیل دیکھئیے کہ جب پورا پاکستان اپنی ٹیم کی عظیم اور تاریخ ساز کامیابی پر فتح کا جشن منا رہا تھا تو لندن میں ملکہ برطانیہ اپنی بادشاہت کی 60ویں سالگرہ منارہی تھیں لیکن برطانوی میڈیا اپنی ملکہ کے گن گانے کی بجائے پاکستانی ٹیم کے گن گا رہا تھا اور انگلش ٹیم کی ذلت آمیز شکست پر نوحہ کناں تھا۔ پاکستان نے مادر آف کرکٹ کو ایک ایسے موقع پر عبرتناک شکست دی جب ان کی ملکہ عالیہ خوشی سے سرشار تھیں لیکن مصباح الحق کے شیرجوانوں نے کرکٹ میں برطانوی بادشاہت کو ہلا کررکھ دیا۔
پاکستان کی انگلینڈ کیخلاف یہ تاریخی فتح ورلڈکپ 92ء کے بعد کرکٹ میں دوسری بڑی فتح ہے جبکہ سعید اجمل تویہاں تک کہہ گئے کہ یہ کامیابی ورلڈکپ جیسی کامیابی ہے۔ پاکستان نے اپنی 64سالہ تاریخ میں کبھی بھی برطانیہ کو وائٹ واش کی خفت سے دوچار نہیں کیا تھا لیکن مصباح الحق کی قیادت میں قومی ٹیم نے یہ کارنامہ سرانجام دیکر دنیائے کرکٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان کی کامیابی کتنی بڑی جیت ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ میچ ختم ہونے کے بعد پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز نے کئی گھنٹوں تک اس کامیابی کوکوریج دی جبکہ پرائم ٹائم میں ہونیوالے ٹی وی ٹاک شوز میں بھی پاکستان کی کامیابی کے گن گائے گئے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے میڈیا نے اس خبرکو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا اور پاکستان کی کارکردگی کو سراہا۔ بھارت جوکہ پاکستان کا ہمیشہ سے دشمن رہا ہے وہاں کا میڈیا بھی پاکستان کی کامیابی پر مصباح الحق الیون کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگیا اور دھونی الیون سے مخاطب ہوکر کہا کر کیسے میچز جیتے ہیں یہ پاکستانی ٹیم سے سیکھیں۔
بہت سے لوگ شاید اس بات سے اتفاق نہ کریں کہ اس کامیابی میں سعید اجمل ، عبدالرحمان، عمرگل ، یونس خان اور اظہرعلی سے زیادہ کلیدی کردار کپتان مصباح الحق کا ہے۔ کرکٹ میں شکست پوری ٹیم کو ہوتی ہے لیکن کامیابی کا زیادہ کریڈٹ کپتان کو جاتا ہے کیونکہ ٹیمیں کپتانوں کی حکمت عملی سے کامیابیاں حاصل کرتیں ہیں اور پاکستان کی اس تاریخی فتح میں مصباح الحق سب سے زیادہ کریڈٹ کے مستحق ہیں۔ مصباح الحق نے ایک ایسی ٹیم کو یکجا کیا جو بکھر چکی تھی اور حالات ایسے بن گئے تھے کہ لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ پاکستانی ٹیم اب دیوار کے ساتھ لگ چکی ہے اور شاید ہی یہ ٹیم ماضی کی طرح بڑی کامیابیاں حاصل کرسکے لیکن یواے ای میں پاکستان نے وہ کردکھایا جس کی توقع نہ تو جیتنے والوں کو تھی اور نہ ہی ہارنے والوں کو۔ پاکستان ٹیم نے گزشتہ سال بہت دکھ درد دیکھے اور صدمات ایسے تھے کہ ٹیم کا شیرازہ بکھر گیا اور قوم کو شرمندگی سے سراٹھانے کی قابل نہیں رہی تھی لیکن آج ٹیم کا مورال اور جذبہ ہمالیہ کو چھورہا ہے۔ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ جیت کتنی بڑی اور انگلینڈ کیلئے کتنی ذلت آمیز ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ ناصر حسین اور مائیکل اتھرٹن کے پاس الفاظ ہی ختم ہوگئے۔ سکائی سپورٹس کے کمنٹیٹر سابق انگلش کپتان ہرروز کھیل کے اختتام پر سکائی سپورٹس کیلئے اپنا ویڈیو بلاگ بھیجتے ہیں جس میں وہ دن کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہیں۔ گزشتہ رات انگلش ٹیم کی بدترین کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے مائیکل اتھرٹن نے چند سخت الفاظ استعمال کیے تو سامنے کھڑے آئن بوتھم نے انہیں کک دے ماری جبکہ ناصر حسین حیرانگی اور شرمندگی کے باعث مسلسل مسکراتے رہے اور بتایا کہ ٹیم کی بدترین شکست پر ان کے ساتھی کمنٹیٹرڈیوڈ لائیڈ فلائٹ پکڑکر لندن واپس جانے لگے ہیں اور اسی دوران ڈیوڈ لائیڈ کرسی اٹھائے ناصر حسین کے پیچھے سے گزرتے ہیں۔ دنیا کے ممتاز ترین کمنٹیٹرز کے پاس الفاظ کی ذخیرہ ختم ہوگیا اور انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنی ٹیم کے بارے میں کیا الفاظ ادا کریں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نے صرف گیارہ انگلش کھلاڑیوں کو نہیں بلکہ انگلش میڈیا اور برطانوی تبصرہ نگاروں کو بھی بے زبان کردیا ہے۔ ادھر پاکستان کی کامیابی پر ملک بھر میں خوشی بھی بھرپور منائی گئی اور شائقین کرکٹ ڈانس کرتے رہے اور مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ ہر شہری خوش دکھائی دیا اور طویل عرصہ بعد مسائل زدہ پاکستانیوں کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ پاکستانیوں کا موڈ خراب بھی کرتی ہے اور اچھا بھی۔ اس بار ٹیم نے قوم کا نہ صرف موڈ اچھا کیا بلکہ پاکستانیوں کو سراٹھا کر جینے کا موقع بھی فراہم کیا۔ یہ کامیابی پاکستان میں رہنے والوں کیلئے شاید اتنی بڑی کامیابی نہیں ہوگی جتنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اس جیت سے خوشی ، عزت اور حوصلہ ملا ہوگا۔ چند ماہ پہلے سپاٹ فکسنگ میں کھلاڑیوں کو سزائیں سنائی گئیں تو بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے منہ لٹک گئے اور انہیں ہتک آمیز الفاظ سننے کو ملے لیکن اب انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم کیخلاف کامیابی سے تارکین وطن سب سے زیادہ خوش ہیں کہ وہ اب رقیبوں کے سامنے سینہ تان کر چل سکتے ہیں۔ طویل عرصہ بعد اللہ نے ایسا موقع عطا کیاہے کہ بھارتی پاکستانیوں کا سامنا کرنے سے کترا تے نظر آرہے ہیں کیونکہ ان کی ٹیم آسٹریلیا میں ذلیل ہورہی ہے اور پاکستان نے انگلینڈ کو ذلیل کردیا۔
قومی ٹیم کو اورقوم کو یہ تاریخی جیت مبارک ہو اور خصوصاً ان پاکستانیوں کو جو ملک سے باہر بیٹھ کر اچھی خبروں کیلئے ترستے ہیں یقیناً اس کامیابی نے اُن کے سربھی فخرسے بلند کردئیے انہیں بھی پاکستان کی تاریخ ساز کامیابی بہت مبارک ہو۔