UrduPoint Sports

کھیل >> نیا اضافہ

اعجازوسیم باکھری:
محمد یوسف کا شمار پاکستان ہی نہیں دنیائے کرکٹ کے نامور بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ رائٹ ہینڈ سے کھیلنے والے سٹائلش بلے باز نے ملکی کرکٹ کے تمام نیشنل ریکارڈز اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ یوسف کو جاوید میانداد کا ثانی اور انضمام الحق کے پائے کا بلے باز مانا جاتا ہے۔ اپنے کیرئیر اور عروج کے دنوں میں محمد یوسف نے جہاں اپنی دلکش شاٹس سے شائقین کے دل موہ لیے وہیں اپنی مزاحمت بھری اننگز سے پاکستان کو بے شمار میچز میں کامیابی بھی دلائی۔ گزشتہ ڈیڑھ برس سے یوسف منظرعام سے غائب ہیں تاہم ایک بار پھر انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیلئے کمر کس لی ہے۔ ایک طرف یوسف نے ہمت کرکے واپسی کیلئے تیاریاں شروع کردی ہیں تو دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے سٹار بلے باز کی فٹنس اور فارم میں کیڑے نکالنے شروع کردئیے ہیں۔ انگریز کوچ ڈیو واٹمور نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی یوسف سے ملاقات کی اور انہیں واپسی کیلئے راضی کیا لیکن شاید واٹمور کو نہیں معلوم کہ وہ ایک ایسے ملک کی ٹیم کی کوچنگ کرنے آیا ہے جہاں کھلاڑیوں کی بے قدری عام رواج بن چکا ہے۔
محمدیوسف نے سابق چیئرمین اعجازبٹ کے دور میں دلبرداشتہ ہوکر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی اور پھر اپنے فیصلے پر نظرثانی بھی کی۔ کرکٹ بورڈ نے دورہ آسٹریلیا میں ناقص کارکردگی اور گروپ بندی کی وجہ سے یوسف اور یونس خان پر پابندی لگائی تھی تاہم بعد میں یہ پابندی ختم کرکے پہلے یونس اور پھر یوسف کو ٹیم میں واپس لے لیا گیا۔ یوسف نے دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور چند ایک بہترین اننگز بھی کھیلیں۔ اس کے بعد تو جیسے یوسف پر کرکٹ کھیلنے کے دروازے بند کردئیے گئے لیکن اس نے ہمت ہارنے کی بجائے حالات سے لڑنے کافیصلہ کیا۔ یوسف کو ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں بھی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا اور نظرانداز کرنے کی پالیسی اعجازبٹ کے دور کے اختتام کے بعد تک بھی جاری رہی۔
اپنے کیریئر میں رنز کا ہمالیہ سر کرنے والے سپرسٹار نے 2007 میں آئی سی سی کی جانب سے سال کا بہترین بیٹسمین کا اعزاز حاصل کیا اور کرکٹ کے سب سے معتبر خطاب وزڈن کرکٹر آف دی ایئرپانے کاخطاب بھی یوسف کو حاصل ہے۔ 1998 ء میں یوسف یوحنا کے نام سے انٹر نیشنل کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد یوسف نے 2005 ء میں اسلام قبول کیا اور اگلے ہی سال ایک کلینڈر ایئر میں1788رنز بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا اور شہرت کی بلندیوں کو چھولیا۔ محمد یوسف نے 90ٹیسٹ میچوں میں 7530رنز بنائے ، جس میں24 سنچریاں اور 33نصف سنچریاں بھی شامل ہیں اور ان کی فی میچ اوسط52.39رنز ہے جو کہ عالمی کرکٹ میں پہلی تین اوسط میں سے ایک ہے۔کور اور ہک شارٹ کو دلکش انداز میں کھیلنے والے باریش بیٹسمین نے 288ون ڈے میچوں میں 9720رنز 41.71کی اوسط سے بنائے جس میں 15سنچریاں اور64 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
محمدیوسف ان دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں باقاعدگی سے ٹریننگ کررہے ہیں اور اپنی فٹنس کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ وہ فارم میں واپسی کیلئے لوکل میچز بھی کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ سری لنکا کیلئے جن کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لیے ان میں یوسف بھی شامل ہیں۔ یوسف کے ٹیسٹ کی تفصیلات تو تاحال سامنے نہیں آسکی لیکن سٹار بیٹسمین کا دعویٰ ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے فٹ بھی ہیں اور مکمل تیار بھی۔ کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ ان کے ساتھ زیادتی کا رویہ ترک کرے اور موقع دے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ واپسی کیلئے یوسف کو صرف فٹ ہونا کافی نہیں ہے۔ تجربہ کار بلے باز کا فارم میں واپس لوٹنا ضروری ہے۔ کوچ واٹمور کا یوسف کے حوالے سے اقبال قاسم کے بالکل برعکس تجزیہ ہے۔ واٹمور کا موقف ہے کہ یوسف جیسے تجربہ کار بلے باز کی ٹیم کو اشد ضرورت ہے۔ یوسف نے اپنی فٹنس بھی ثابت کردی ہے اور فارم ٹیم کے ساتھ رہ کر اور کھیل کر ہی واپس آئے گی۔ اب دیکھنا ہوگا کہ اقبال قاسم کے موقف کو فتح نصیب ہوتی ہے یا پھر واٹمور یوسف کو سری لنکا لیجانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یوسف اگر سچن ٹنڈولکر کے پائے کا بلے باز نہی تو کم از کم پاکستان کے ٹنڈولکر ہیں۔ اگر بھارتی ٹنڈولکر اپنی عمرکے اس حصے میں ٹیم کیلئے کھیل سکتے ہیں تو یوسف ان سے زیادہ اور بہترفٹنس کے مالک ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کھلاڑی کی قدر کی جاتی ہے اور پاکستان میں بے قدری۔ سلیکشن کمیٹی کو چاہئے کہ وہ یوسف کو ضرور موقع دے کیونکہ اس جیسا بلے باز دوبارہ نہیں مل سکتا اور اگر یوسف کا بیٹ چل پڑا تو پاکستان آسانی سے لنکا ڈھانے میں کامیاب ہوجائیگا۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے