اعجازوسیم باکھری:
پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو تیسرے ون ڈے میں بھی شکست دیکر پانچ میچوں کی سیریزاپنے نام کرلی۔ قومی ٹیم کی یہ لگاتار دوسری ون ڈے سیریز میں کامیابی ہے ، اس سے پہلے پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ان کی سرزمین پر شکست دی تھی۔ نوجوان کھلاڑیوں سے سجی پاکستانی ٹیم کی کامیابی میں سینئربلے باز مصباح الحق نے کلیدی کردار ادا کیا اور وہ لگاتار تیسرے میچ میں ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے سرخرو ہوکر میدان سے باہر آئے۔ مصباح نے پہلے میچ میں 72 دوسرے میں 43 اور تیسرے میچ میں 62 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی۔ دورہ نیوزی لینڈ میں بھی مصباح الحق نے اس طرز کی بیٹنگ کی تھی اور وہ نمایاں بلے باز کی حیثیت سے پاکستان کوٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں کامیابی دلانے میں سرخرو ہوئے۔ حالانکہ مصباح الحق کے طرز بیٹنگ کو کچھ لوگ شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن گزشتہ میچ میں جب شاہد آفریدی صرف 11رنز بنانے کے بعد اپنی وکٹ ویسٹ انڈین باؤلر اور فیلڈ ر کو گفٹ کرکے واپس جارہے تھے تو تب پاکستان کی پوزیشن کافی کمزور ہوگئی تھی لیکن موصوف نے ہمیشہ کی طرح غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیلا اور کیچ دے بیٹھے۔ اس موقع پر مصباح الحق تھے جنہوں نے ٹیم کو فتح دلائی اور مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔تیسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹاپ آرڈربلے باز بری طرح ناکام رہے ، حالانکہ دوسرے میچ میں احمد شہزاد سنچری سکور کرکے اپنی فارم بحال کرچکے تھے لیکن ایک بار پھر وہ ابتدائی اوورز میں آؤٹ ہوگئے۔ عمراکمل کی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے اور مشکل حالات میں عمراکمل نے جارحانہ بیٹنگ کرکے اپنی ٹیم کو جیت کی پوزیشن میں لاکھڑا کیا ۔
ویسٹ انڈین ٹیم نے تیسرے میچ میں فتح کیلئے بھر پور کوشش کی لیکن ناتجربہ کاری ان کے آڑے آگئی اور وہ ابتدائی تین میچوں میں ناکامی کے بعد سیریز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔کرس گیل ، چندرپال ، ساروان اور کیرن پولارڈ کی عمدہ موجودگی میں ویسٹ انڈین ٹیم کی جیت کے امکانات کم ہی ہیں ، ٹونٹی ٹونٹی میچ میں پاکستان کی غلطیوں کیو جہ سے کیریبین ٹیم فتح کا مزہ چکنے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد ون ڈے سیریز میں میزبان ٹیم کو اپنی سینئرز کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کا شدید نقصان اٹھانا پڑا رہا ہے۔ٹیسٹ سیریز میں اگر یہ کھلاڑی لوٹ آئے جس کا امکان کم ہے تو مقابلہ دلچسپ ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں قدرے کمزور ہے لیکن ون ڈے کرکٹ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کلاس کردیا ہے۔
قومی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی ون ڈے سیریز جیتنے کے بعد کافی خوش ہیں اور انہوں نے اس خوشی میں آئی سی سی کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا جوکہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے اور آفریدی کی تنقید پر آئی سی سی کو ہرصورت میں توجہ دینی چاہئے کیونکہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ون ڈے سیریز میں شکست دیدی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی رینکنگ میں بہتری نہیں آئی جوکہ انوکھی بات لگتی ہے۔شاہد آفریدی نے گزشتہ روز دئیے گئے انٹرویو میں آئی سی سی کی ریکنگ سسٹم پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ”آئی سی سی کی درجہ بندی کا طریقہ کار ناقابل فہم ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کرنے کے باوجود ہمیں کوئی ریٹنگ پوائنٹ نہیں ملے گا۔مجھے آج تک آئی سی سی کے رینکنگ سسٹم کی سمجھ نہیں، ایک ٹیم ون ڈے سیریز میں وائٹ واش کر دے تو بھی اسے کوئی پوائنٹ نہیں ملے گا یہ عجیب منطق ہے ۔ آفریدی نے مطالبہ کیا کہ آئی سی سی اپنے نظام کو واضح کرے تاکہ تحفظات دور ہوسکیں۔ آئی سی سی کیخلاف بات کرنے کیلئے ہمت کی ضرور ت ہوتی ہے اور آفریدی نے ہمت سے کام لیتے ہوئے اپنی ٹیم کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی ہے جس پر یقینا کچھ لوگوں کو تکلیف ہوگی لیکن آفریدی نے صحیح موقع پر قیمتی پوائنٹ اٹھایا ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔