لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر)پاکستان فٹبال فیڈریشن کے زیر اہتمام کھیلی جارہی ہے سب سے بڑی پریمئرفٹبال لیگ کے 150میچز مکمل ہوگئے لیکن حیران کن طور پر اب تک کھیلے گئے کسی ایک میچ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے پی ایف ایف کے عہدیداروں نے زحمت گوارا نہیں کی۔6ماہ کے عرصے پر محیط نیشنل چیمپئن شپ میں پاکستان کے تمام بڑے ڈیپارٹمنٹس کی 14ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں روزانہ دو میچز کھیلے جاتے ہیں لیکن پی ایف ایف کی انتظامیہ ایونٹ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔بلندوباگ دعوؤں کے مالک فٹبال فیڈریشن کے عہدیدار بھاری تنخواہیں تواتر کے ساتھ لے رہے ہیں لیکن کھیل کی ترقی اور نئے کھلاڑیوں کی تلاش میں ایسے کوتاہی برتی جارہی ہے جیسے وہ برازیل میں بیٹھے ہوں کہ جہاں ٹیلنٹ خود بخود اپنی موجودگی کا احساس دلائے گا۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جوساٹھ سال بعد بھی کھیلوں کی دنیا میں وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جو دوسرے ملک اس عرصے سے کہیں کم مدت میں حاصل کرچکے ہیں۔کرکٹ اور ہاکی پاکستان کے مقبول ترین کھیل ہے لیکن فٹبال میں بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ،پاکستان فٹبال فیڈریشن کو فیفاکی جانب سے کھیل کی ترقی اور نئے کھلاڑیوں کی تلاش کیلئے وسیع فنڈزملتا ہے لیکن مجال ہے کہ وہ فنڈز فٹبال کے فروغ کیلئے خرچ کیا گیا ہو۔مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کا حال یہ ہے کہ کہ لگاتار6ماہ تک جاری رہنے والی پریمئر لیگ کیلئے کوئی سپانسرز نہیں حاصل کیا جاسکا حالانکہ دوسری فیڈریشنز تین سے چار روزہ ایونٹ کیلئے بھی سپانسر ڈھونڈلیتی ہیں لیکن پی ایف ایف کے عہدیدار سرکاری گرانٹ اورفیفاکی جانب سے ملنے والے رقم پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ ان کیلئے غیرملکی ٹورز کرنے کیلئے یہ رقم کافی ہوتی ہے۔سیف چیمپئن شپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پرچیف کوچ اختر محی الدین کو اس لیے برطرف کردیا گیا تھاتاکہ خود کو شکست کی ذمہ داری سے بچایا جاسکے۔اختر محی الدین نے قومی ٹیم کی ترقی کیلئے انتھک محنت کی اور اگر کہیں کلب کی ٹیمیں بھی کھیل رہی ہوتی تھیں تو وہ ازخود کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے پہنچ جاتے تھے اب ان کی غیرموجودگی میں جولائی 2008ء سے شروع ہونیوالی پریمئر لیگ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ختم ہورہی ہے لیکن کسی ایک میچ بھی پی ایف ایف کے آفیشلز نے نوجوان باصلاحیت کھلاڑیوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اب ٹیم کیلئے کوچ مقرر کیا گیا ہے۔اگر کوچ تعینات کیا جاچکا ہوتا تو کم از کم وہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر نظر تو رکھتے کیونکہ پی ایف ایف کا ماننا ہے کہ وہ مستقبل کیلئے ایک مضبوط ٹیم تشکیل دینا چاہتے ہیں لیکن عہدیداروں کی عدم دلچسپی اس بات کا ثبوت پیش کررہی ہے کہ وہ ٹیم کے مستقبل کیلئے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کو شاندار بنانے کے خواہشمند ہیں۔