لاہور (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک ) پاکستان فٹبال فیڈریشن کی تادیبی کمیٹی نے پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر اوررکن کانگریس محمد ارشد لودھی کو پی ایف ایف کنڈیکٹ اور ڈسپلن کی شق 2 سی اور 2 این کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر 10 سال کی پابندی لگادی اور دو لاکھ روپے جرمانہ سنادیا۔ وہ اب فٹبال کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی کسی فٹبال تنظیم کے عہدیدار منتخب ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے ساتھی کانگریس کے رکن چودھری رشید اور فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر انیس لودھی پر بھی 5 سال کيلئے پابندی لگادی گئی اور دونوں کو پچاس پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ایک پریس ریلیز کے مطابق پی ایف ایف کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین رؤف معین کی رپورٹ کے بعد ان تینوں عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن اور اس سے منسلک کسی بھی ایسوسی ایشن کا عہدیدار یا رکن فیڈریشن کے خلاف میڈیا میں بیان نہیں دے سکتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ایف ایف کے نئے آئین کے مطابق ارشد لودھی کو فیڈریشن کے سیکرٹری کا عہدہ چھوڑنا پڑا لیکن وہ بدستور فیڈریشن کے صدر ہیں اس لیے ان کو فیڈریشن کے خلاف بیان بازی زیب نہیں دیتی۔ ارشد لودھی کا مؤقف ہے کہ فٹبال فیڈریشن کے انتخابات غیرقانونی ہیں۔ فیڈریشن کے صدر نے پنجاب کو شامل کیے بغیر الیکشن مقررہ وقت سے پہلے کروالیے اور وہ اس سلسلے میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کو بھی ایک خط میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔