حیدرآباد (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک 26 نومبر2007) دوسری حیدرآباد اوپن وویمنز قومی اسکوائش چیمپئن شپ کے فائنل میں پاکستان کی قومی چیمپئن اورٹورنامنٹ کی فیورٹ نمبرون کھلاڑی 17سالہ ماریہ طور نے نیشنل رنیکنگ نمبر7اورنمبر3سیڈ پنجاب سے تعلق رکھنے والی آرمی کی 16سالہ زویا خالد کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 28منٹ میں صفر ۔ 3گیمز سے کامیابی حاصل کرکے چیمپئن شپ دوسری مرتبہ جیتنے کا اعزاز پانے میں کامیاب ہوگئیں ۔ماریہ طورنے 2006میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے فائنل میں سائرہ بانو کو ہراکر چیمپئن ہونے کا شرف حاصل کیاتھا۔ فائنل میں ماریہ طور کاکھیل انتہائی عروج پرنظرآیا ۔ انہوں نے اپنے فیورٹ نک شاٹ‘ ڈراپ شاٹ‘ زوردار اسٹروک‘ خوبصورت والی‘ ریٹرن شاٹ‘ بھرتی اوربھرپور اسٹمینا کامظاہرہ کرکے یہ ٹائٹل جیتا ان کی حریف زوہاخالد نے بھی بھرپور محنت کی تاہم وہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے پہلے دوگیم آسانی سے ہارنے کے بعد صرف تیسر ے گیم میں ان سے ٹف مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ماریہ طور نے زویاخالدکو پہلے گیم میں 8منٹ میں9-0سے ‘ دوسرے گیم میں 10منٹ میں9-3سے اورتیسرے گیم میں بھی 10منٹ میں9-3سے ہرایا اور حیدرآباد جیم خانہ کے اسکوائش کمپلیکس کے تھری سائڈ وال کورٹ پردوسری حیدرآباد اوپن وویمنز قومی اسکوائش چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا۔ چیمپئن شپ کے فائنل میں مہمان خصوصی صوبائی وزیر کھیل سندھ امبر رضا نیسی نے فاتح کھلاڑی ماریہ طور کو 15,000روپے ‘ گفٹ اور ٹرافی دی جبکہ رنز اپ زویا خالد کو 7,500روپے ‘ گفٹ ‘ ٹرافی عطا کی گئی ۔ اس موقع پر پاکستان اسکوائش فیڈریشن کے سیکریٹری ونگ کمانڈر شمس الحق‘ سندھ اسپورٹس بورڈ کے سیکریٹری سید غلام اکبرشاہ بخاری‘ سندھ اسپورٹس بورڈ کمپلیکس حیدرآباد کے کوآرڈینیٹر سید اشرف علی شاہ‘ حیدر آباد جیم خانہ کے صدر جاوید جونیجو‘ سیکریٹری شاہد آرائیں‘ حیدرآباد کی پہلی اسکوائش خواتین پلیئر زیبا طارق‘ حیدرآباد اسکوائش ایسوسی ایشن کے صدر طاہر جمیل خانزادہ‘ سیکریٹری اعجاز شیخ اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد شیروانی سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات موجودتھیں۔ قابل غور یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے میزبان حیدرآباد کی کوئی کھلاڑی ٹورنامنٹ میں موجود نہیں تھی اور پورے ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں اور چند ذاتی مفاد پرست ٹولے کے چند افراد اورگنتی کے آفیشنلز موجودتھے جو حیدرآباد میں خواتین کی ترقی وفروغ کیلئے لمحہ فکریہ ہے جبکہ تماشائی پورے ٹورنامنٹ کے کسی بھی میچ میں کہیں پر بھی نظر نہیں آئے۔