اسلام آباد(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک22-اکتوبر2007) ارجنٹائن کے کھلاڑی ڈیوڈ نیلبڈین نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹینس کے دیو عالمی نمبر ون سوئٹزر لینڈ کے راجر فیڈرر کو ڈھیر کرتے ہوئے میڈرڈ ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کا فائنل جیت لیا، یہ اس ٹورنامنٹ کا دوسرا بڑا اپ سیٹ تھا جو ڈیوڈ نیلبڈین نے کیا، اس سے قبل انہوں نے کوارٹر فائنل مرحلے میں عالمی نمبر ون سپین کے نوجوان کھلاڑی رافیل نڈال کو نڈھال کردیا تھا، یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیوڈ نیلبڈین میڈرڈ ماسٹرز سیریز کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔، ڈیوڈ نیلبڈین نے فائنل میں راجر فیڈرر کیخلاف ایک چھ، چھ تین اور چھ تین سے کامیابی حاصل، گزشتہ روز جب فائنل میچ شروع ہوا تو راجر فیڈرر نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلا سیٹ با آسانی چھ ایک سے جیت کر اپنی واضح برتری ثابت کی تاہم دوسرے سیٹ میں ڈیوڈ نیلبڈین نے کھیل میں واپس آتے ہوئے چھ تین سے کامیابی حاصل کرکے مقابلہ ایک ایک سے برابر کردیا امید کی جا رہی تھی کہ فیڈرر تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں روایتی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیلبڈین کو شکست دیکر ٹائٹل جیت لیں گے مگر ڈیوڈ نیلبڈین نے اپنی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کن سیٹ بھی چھ تین سے جیت کر پہلی بار میڈرڈ ماسٹرز سیریز کا ٹائٹل جیت لیا، فائنل میچ جیتنے کے بعد ڈیوڈ نیلبڈین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ ان کے کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی ہے راجر فیڈرر کو شکست دینا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے اور میں نے یہ اعزاز حاصل کرلیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کوارٹر فائنل مرحلے میں رافیل نڈال کے خلاف ان کی کامیابی نے انہیں ایک نیا اعتماد دیا تھا اور فائنل میں اسی اعتماد کے بل بوتے پر وہ جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی سے انہیں جو اعتماد ملا ہے وہ بیان سے باہر ہے اور اسی اعتماد پر وہ آئندہ مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کرینگے، انہوں نے کہاکہ فائنل میچ سے قبل انہیں یقین تھا کہ اگر وہ بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے تو جیت ان کی ہو گی انہوں نے کہاکہ یہ جیت انہیں مدتوں یاد رہے گی، ادھر راجر فیڈرر نے شکست کے بعد کہا ہے کہ ڈیوڈ نیلبڈین بلاشبہ بہت اچھا کھلاڑی ہے اس نے بہتر کھیل پیش کرکے کامیابی حاصل کی انہوں نے کہاکہ وہ شکست کیلئے کوئی بہانہ نہیں بنائیں گے صرف اتنا کہہ گے کہ ڈیوڈ نیلبڈین نے بہتر کھیل پیش کرکے کامیابی حاصل کی انہوں نے کہاکہ وہ شکست سے مایوس نہیں ہیں اور اب ان کی نظر آئندہ مستقبل کے مقابلوں پر مرکوز ہے۔