لندن(اردوپوائنٹ سپورٹس ) سپیڈ سٹار شعیب اختر نے کہا ہے کہ پی سی بی ڈوپنگ کیس کو اچھے طریقے سے ہینڈل کر کے ملکی وقار اور ورلڈکپ میں ٹیم کو مکمل تباہی سے بچا سکتی تھی، ڈوپنگ کیس کو غیر طبی اور احمقانہ طریقے سے ہینڈل کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میں اور آصف اَن فٹ ہو گئے اور ورلڈکپ میں شرکت سے بھی محروم رہے۔ ایک ویب سائٹ کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت نے واڈا کی اپیل مسترد کر کے ان کے کیریئر کو تاریکی سے نکال دیا اور ان کی زندگی کا مشکل ترین دور ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے کیریئر میں کئی نشیب و فراز آئے۔ جن میں ذہنی اور طبی مسائل بھی شامل تھے لیکن اب ان کا خاتمہ ہو گیا۔ ثالثی عدالت کے فیصلے نے ان کو سکون دیا جب مجھ پر دو سال کی پابندی لگی تھی یہ میرے کیریئر کے تاریک ترین لمحات تھے اور میں ذہنی طور پر بھی بے بس ہو گیا تھا اور میں ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی غیر قانونی ادویات استعمال نہیں کیں۔ میں نے پوری زندگی کوئی غلط کام نہیں کیا۔