لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک11-اگست 2007 ) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ ان کو صفائی کا موقع دیئے بغیر جرمانہ کیا گیا ہے جو درست نہیں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بورڈ کے ڈئریکٹر کرکٹ آپریشنز ذاکر خان نے ان کے گھر فون کرکے اہل خانہ سے بدتمیزی کی ہے دو روز قبل بورڈ کی جانب سے نامناسب رویہ پر 3لاکھ روپے جرمانے کے بعد جمعے کو پہلی مرتبہ شعیب اختر قذافی اسٹیڈیم لاہور پہنچے اور انہوں نے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ذاکر خان سے ملنے کی کوشش کی مگر وہ اپنے کمرے میں موجود نہیں تھے اس موقع پر شعیب اختر بہت زیادہ برہم دکھائی دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 3لاکھ روپے جرمانے کے بعد ذاکر خان نے میرے گھر فون کیا میں گھر پر موجود نہیں تھا جس پر ذاکر خان نے میرے اہل خانہ سے نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے بدتمیزی کی۔ شعیب اختر نے کہا کہ وہ ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز کے رویہ کے خلاف تحریری طور پر بورڈ سے شکایت کریں گے۔ شعیب اختر نے غصے کے عالم میں کہا کہ ذاکر خان کا رویّہ درست نہیں تھا بور ڈ انہیں عہدے سے برطرف کرے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹوئنٹی 20 کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران کیمپ چھوڑ کر چلے جانے اور تین لاکھ روپے جرمانے پر بھی شعیب اختر نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں ٹیم کے کپتان کو بتاکر کیمپ سے گیا تھا ان کا کہنا ہے کہ جرمانے سے پہلے بورڈ مجھے اظہار وجوہ کا خط جاری کرتا۔ قانونی تقاضے پورے کئے بغیر بورڈ کو جرمانہ کرنے کا حق نہیں ہے کیوں کہ ان کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا ان کا کہنا ہے کہ میں ڈسپلن نہیں توڑ سکتا ہوں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کیمپ سے جانے کے بعد ٹیم کے منیجر طلعت علی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ فاسٹ بولر شعیب اختر کی گردن میں تکلیف ہے اوروہ آرام کی غرض سے تربیت نہیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نے انہیں ایک ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے ٹیم منیجر نے اس مرحلے پر میڈیا کو شعیب اختر کے رویة سے متعلق کچھ نہیں کہا اور ڈسپلن توڑنے کا قطعی کوئی الزام نہیں لگایا۔