اسلام آباد (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک11-اگست 2007 ) سری لنکن کرکٹ بورڈ نے بھی واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی کرکٹر بھارت میں ہونے والی متنازعہ کرکٹ لیگ کھیلنے کا معاہدہ کرے گا تو اس پر تاحیات پابندی عائد کر دی جائے گی۔ سری لنکن کرکٹ بورڈنے یہ دھمکی ایسے وقت میں دی ہے جب متنازعہ کرکٹ لیگ کے منتظمین نے سری لنکا کے نامور کرکٹرز کے ساتھ معاہدے کیلئے رابطہ کر رکھا ہے۔ اس بارے میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک جاری کردہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ہمارا متنازعہ بھارتی کرکٹ لیگ پر مؤقف بالکل واضح ہے اور کوئی بھی سری لنکن کرکٹر اگر اس لیگ میں کھیلنے کا معاہدہ کرتا ہے تو وہ نہ صرف آئندہ کبھی بین الاقوامی سطح پر سری لنکن ٹیم کی نمائندگی سے محروم ہو جائے گا بلکہ اسے ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی بھی کوئی اجازت نہیں ہوگی۔ یاد رہے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مارون اتاپتو نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سنٹرل کنٹریکٹ معاہدے پر عملدرآمد سے معذوری ظاہر کر دی تھی، اس معاہدے کے تحت انہیں سالانہ ایک لاکھ ڈالر ملتے تھے جبکہ ٹور اور میچ فیس اس سے علیحدہ ہیں۔ اتاپتو کا بورڈ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وہ متنازعہ بھارتی کرکٹ لیگ سے معاہدہ کر رہے ہیں۔ 1982ء میں سری لنکا کرکٹ بورڈ نے 14 کرکٹرز پر 25 سال کی پابندی لگا دی تھی جو وارنا پورا کی قیادت میں ساؤتھ افریقہ کھیلنے چلے گئے تھے۔ اس زمانے میں نسلی منافرت کی وجہ سے آئی سی سی نے ساؤتھ افریقہ سے کرکٹ تعلقات منقطع کر رکھے تھے اور سری لنکا حکومت نے بھی ساؤتھ افریقہ سے کھیلوں کی سطح پر تعلقات ختم کئے ہوئے تھے۔ 1990ء میں یہ پابندی ختم کر دی گئی اور اس ٹیم کے کئی کھلاڑی اس وقت سری لنکن کرکٹ ایڈمنسٹریشن میں شامل ہیں۔