اسلام آباد(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک15-اگست 2007 ) فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی طرف سے جرمانے کی معافی نہ ملنے پر20اوور ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی نے پی سی بی کو موم کر دیا اور اس نے شعیب اختر کی سزا پر نظر ثانی کيلئے دو رکنی کمیٹی بنا دی جو ایڈہاک کمیٹی کے رکن معین افضل اور علی رضا پر مشتمل ہے جو جمعہ کے روز تحقیقات کا آغاز کرے گی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں پی سی بی آفیشلز کے خلاف نازیبا زبان بولنے کے بعد شعیب ا ختر نے مزید کارروائی سے بچنے کيلئے پی سی بی کو پیغام بھجوایا تھا کہ اگر ان کيخلاف ایکشن لیا گیا تو وہ فٹنس کا بہانہ بنا کر 20 اوورز ورلڈکپ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کراچی کے تربیتی کیمپ سے بغیر اطلاع غائب ہونے کے بعد فاسٹ باؤلر نے ایبٹ آباد میں ایک کمرشل شوٹنگ میں شرکت کی اور اس کے ثبوت پی سی بی نے حاصل کرلئے جو سخت سزا کا موجب بن گئے۔ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ جرمانوں اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کا شکار رہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کے بعد شعیب اختر نے بورڈ کی ایک اعلیٰ شخصیت سے ذاتی طور پر معافی مانگی جس پر اس شخصیت نے اپیل کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری طرف پی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز ذاکر خان نے جن کو فاسٹ باؤلر نے مبینہ طور پر گالیاں دی تھیں وہ شعیب اختر کے خلاف ثبوت تحقیقاتی کمیٹی کو پیش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منیجر طلعت علی بھی اس معاملے میں ذاکر خان کا ساتھ دیں گے، تاہم کپتان شعیب ملک کے بارے میں معلوم نہیں ہوا کہ وہ شعیب اختر یا ذاکر خان کا ساتھ دیں گے۔