لاہور (اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز محمد یوسف نے بھارت میں باقاعدہ طور پر متنازعہ انڈین کرکٹ لیگ کو دوبارہ سے جوائن کر لیا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے آئی سی ایل سے نیا معاہدہ بھی سائن کیا ہے جس کی مالیت ساڑھے چھ لاکھ ڈالر بتائی جارہی ہے جو آئی سی ایل میں ہیوی پیکج تصور ہو گاجس کے بعد وہ اگلے ہفتے سے باقاعدہ طور پر آئی سی ایل کھیل سکیں گے محمد یوسف آئی سی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں پر مشتمل لاہور بادشاہ کی ٹیم کی نمائندگی کریں گے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی ایل کیلئے اپنے ملک کی طرف سے بھی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی سی ایل انتظامیہ انہیں اپنے ملک کی طرف سے کرکٹ کھیلنے سے نہیں روکے گی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ متنازعہ آئی سی ایل سے معاہدے کے بعد محمد یوسف کا پاکستان کی طرف سے کھیلان ممکن نہیں رہا کیونکہ محمد یوسف نے کسی کو بتائے بغیر معاہدہ کیا جو کے ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انتخاب عالم نے کہا کہ محمد یوسف کو پاکستان نے بہت کچھ دیا تاہم انہوں نے اخلاقی قدروں کا لحاظ نہ کرتے ہوئے متنازعہ انڈین کرکٹ لیگ جوائن کی۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ان کا قومی ٹیم میں کھیلنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے بھارت میں آئی سی ایل سے نیا معاہدہ سائن کرنے سے قبل اپنے لیگل ایڈوائزر سے بھی مشورہ لیا اور آئی پی ایل کی جانب سے کمزور کیس کی وجہ سے آئی سی ایل کو دوبارہ اپنی خدمات پیش کیںمحمد یوسف کے آئی سی ایل با ضابطہ طور پر جوائن کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے محمد یوسف پر ملک میں اور ملک کی جانب سے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے کرکٹ بورڈ کے ڈائر یکٹر آپریشن ذاکر خان کے مطابق محمد یوسف کا سینٹرل کنٹریکٹ بھی ختم کر دیا گیا ہے اور جب تک وہ آئی سی ایل کھیلتے رہیں گے ان پر پابندی عائد رہے گی اس کے علاوہ محمد یوسف پر وہ تمام پابندیاں بھی لاگو ہو نگی جو آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر عائد کی گئی تھی ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز کے لئے ٹیم میں شامل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد مڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف منگل کو اچانک بھارت روانہ ہوگئے تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد یوسف کی اہلیہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ وہ آئی سی ایل کھیلنے بھارت چلے گئے ہیں تاہم اس خبر کی محمد یوسف یا آئی سی ایل کی طرف سے تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔ واضح رہے کہ پیر کو سلیکشن کمیٹی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے لئے پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان کیا جس میں محمد یوسف بھی شامل تھے لیکن ان کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ دوپہر کی فلائٹ سے بھارت روانہ ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فلائٹ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل سلیم الطاف بھی بھارت گئے انہوں نے ہی ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ محمد یوسف بھی انہیں ائرپورٹ پر نظر آئے اور جب انہوں نے یوسف سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نجی کام کے سلسلے میں بھارت جارہے ہیں لیکن آج محمد یوسف کی سلیم الطاف سے غلط بیانی بھی ثابت ہو گئی ہے ۔ واضح رہے کہ محمد یوسف نے اس سے قبل بھی آئی سی ایل سے معاہدہ کیا تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کی مداخلت پر انہوں نے یہ معاہدہ ختم کرکے آئی پی ایل سے معاہدہ کرلیا تھا۔ آئی سی ایل نے یہ معاہدہ ختم کرنے پر محمد یوسف کے خلاف عدالت سے رجوع کررکھا تھا اور اس ماہ کی اکیس تاریخ کو محمد یوسف کو ممبئی کی ثالثی عدالت میں پیش ہوناتھامحمد یوسف کافی عرصے سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور کپتان شعیب ملک سے بعض معاملات پر کھینچا تانی کا شکار تھے ۔