لاہور (اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر) وسیم اکرم نے کہاکہ آئی سی سی انتہائی کمزور ہوچکی ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پاس سخت فیصلے کرنے کی پاور نہیں رہی جس سے کرکٹ کا مستقبل تاریک لگ رہا ہے۔قذافی سٹیڈیم لاہورمیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیجنڈ فاسٹ باؤلر نے کہاکہ اب وہ دور آچکا ہے کہ ہرجگہ اپنی الگ الگ پرائیوٹ لیگ کرکٹ شروع ہوچکی ہیں، جس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ کھیل کی گورننگ باڈی میں فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رہا ،کھیل کی بہتری اور ترقی کیلئے آئی سی سی کو اپنی گرفت کو مضبوط کرنا چاہیے۔قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پی سی بی کو چاہیے کہ وہ شعیب ملک کو مزید اعتماد دے کیونکہ اس کی کپتانی میں کافی بہتری آچکی ہے اوراسے مزید موقع فراہم کیا جاناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ اگربیک اپ میں شعیب ملک سے بہترکپتانی کا امیدموجود ہے تو تبدیلی میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر کسی دوسرے کو مزید وقت دینا ہے تو شعیب ملک ہی کو کپتان برقرار رکھا جائے۔وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ انہیں پی سی بی کے نئی انتظامیہ میں ٹیسٹ کرکٹرز کو دیکھ کر بے حدخوشی ہوئی ہے ،اعجاز بٹ انتہائی تجربہ کار شخص ہیں اور مجھے یقین ہے وہ اپنی ٹیم کے ساتھ پاکستان کرکٹ کوبہتری کی طرف لے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انتخاب عالم کو بطور کوچ بنانا پاکستان کرکٹ کیلئے اچھا فیصلہ ہے اور ان کے ساتھ عاقب جاوید اور اعجاز احمد جبکہ ٹیم منیجر یاور سعید بھی وسیع تجربے کے مالک ہیں جس سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری پیدا ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ مطالبہ کیا تھا کہ کرکٹرز کو پی سی بی میں لایا جائے اور پہلی بار کرکٹرز کو بورڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں لہذا مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کو بلندی کی طرف لے جائیں گے۔ لیکن یہاں یہ چاہوں گا کہ چیئرمین ،سلیکٹرز اورکوچ سمیت تمام لوگوں کو کم از کم دوسال کا وقت دیا جائے تاکہ وہ پراعتماد طریقے سے کام کرسکیں۔وسیم اکرم نے کہاکہ بھارتی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف کھیل کر کافی مضبوط ہوچکی ہے اور پاکستان ایک سال سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ،لہذا بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان سے قبل قومی ٹیم کو کم از کم دو ٹیسٹ سیریز لازمی کھیلنا چاہیے ، ،بصورت دیگر پاکستانی ٹیم کو بھارت کے خلاف سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔محمدیوسف کے بارے انہوں نے کہاکہ وہ نہیں جانتے کہ یوسف نے کیا سوچ کر آئی سی ایل جوائن کرنے کافیصلہ کیا ،اگر میں محمد یوسف کی جگہ ہوتا تو پاکستان کو ترجیح دیتا کیونکہ میں پاکستان کی وجہ سے ہوں اور یوسف بھی آج محمد یوسف پاکستان کی بدولت ہے ،ہمیں اپنے ملک کو اولین ترجیح دینا چاہیے محمدیوسف کا یہ فیصلہ اس کے مستقبل کیلئے اچھا نہیں ہے،میرے خیال میں یوسف کو پاکستان کی جانب سے مزید کھیلنا چاہیے تھا۔وسیم اکرم نے کہاکہ کرکٹ بورڈکو کرکٹ کے فیصلے کرنے کیلئے سابق سٹار اور فرسٹ کلاس کرکٹرز پر مشتمل ایک کرکٹنگ کمیٹی بنانی چاہیے تاکہ کرکٹ کی بہتری کیلئے مثبت فیصلے کیے جاسکیں۔وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ان کی خدمات ہمیشہ پاکستان کیلئے حاضر ہیں ،ان کی کچھ ذاتی مصروفیات ہیں لیکن فارغ اوقات میں پی سی بی کرکٹ کے فروغ کیلئے ان سے جوبھی خدمات لینا چاہتا ہے تو اس کیلئے میں تیار ہوں۔ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی سیریز کے بارے میں وسیم اکرم نے کہاکہ دونوں ٹیمیں ایک ہی پوزیشن کی حامل ہیں تاہم مذکورہ سیریز میں پاکستانی ٹیم فیورٹ ہے۔(سپورٹس رپورٹر)