لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر) بھارتی جونیئر ہاکی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ہونے اور پشاور کے قیوم سٹیڈیم کے باہر بین الصوبائی گیمز کی اختتامی تقریب کے وقت ہونے والے بم دھماکے کے بعد جنوری میں بھارتی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان پر شکوک کے بادل گہرے ہوگئے ہیں۔ بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیکورٹی صورتحال میں بھارتی وزارت خارجہ، بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو دورے کے لئے کلیئرنس دینے سے گریز کررہی ہے۔ اس لئے سیریز نیوٹرل گراؤنڈ پر ہونے کا آپشن موجود ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ چار سال میں بھارتی ٹیم تین بار پاکستان آچکی ہے۔ اس بار بھی دورہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکام ملک میں کھیلوں کے میدانوں کو ہمیشہ محفوظ قرار دیتے رہے لیکن پشاور کے خودکش حملے نے اس موقف کو بھی جھٹلادیا ہے۔ سلیم الطاف نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ بھارتی ہاکی ٹیم نے دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔ اس کے اثرات منفی ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا کہ دورہ نہیں ہوگا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورے کا پروگرام منظوری کے لئے بی سی سی آئی کو بھیجا تھا۔ انہوں نے تمام سینٹرز پر کھیلنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ سلیم الطاف سے دریافت کیا گیا کہ ہوم سیریز غیر معمولی حالات میں تیسرے ملک میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر آپشن پر غور کررہے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی کی پالیسی ہے کہ کرکٹ نہ کھیلنے سے بہتر ہے کہ اسے کسی اور ملک میں کھیل لیا جائے۔ تاہم آخری لمحات تک کوشش کریں گے کہ سیریز پاکستان میں ہی ہو۔