ابوظہبی (اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر)پاکستان نے ابوظبی سیریز کے تیسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو 31 رنز سے ہرا کر نہ صرف کلین سوئپ کیا بلکہ عالمی رینکنگ میں چوتھی پوزیشن بھی یقینی بنالی۔ ویسٹ انڈین کپتان کرس گیل نے 122 رنز بنائے لیکن اپنی ٹیم کو کامیابی ہمکنار نہ کرسکے، پاکستان فاسٹ بولرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 274 کا ہدف پانے والی حریف سائیڈ کی بساط242 پر لپیٹ ڈی۔ راؤ افتخار نے چار، عمر گل نے تین اور سہیل تنویر نے دو وکٹ لیے، مشکل وقت میں سنچری اسکور کرنے والے یونس خان کو مین آف میچ اور گیل کوسیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے سروان نے 62 اور جیروم ٹیلر نے 17رنز بنائے۔ ان علاوہ کوئی اور بیٹسمین ڈبل فیگر میں داخل نہ ہوسکا۔ویسٹ انڈین کپتان جب99 پر پہنچے تو اس وقت وکٹ پر عجیب وغریب صورتحال پیدا ہوگئی، راؤافتخار کی گیند پر ان کے خلاف کاٹ بی ہائنڈ کی زور دار اپیل ہوئی، تمام پاکستانی فیلڈرز ان کے آؤٹ ہونے کی خوشیاں منانے لگے لیکن امپائرز نے بیٹسمین کے حق میں فیصلہ دے کر ڈرامے کا ڈراپ سین کردیا۔ اوپنر چٹرگون6 ، چندر پال3، زیویئر مارشل 0،شان فنڈلے5، برینڈن ناش1، ڈیرن پاول0اور لائنل بیکر2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔پاکستانی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے ایک مرتبہ پھر ٹاس جیت کر مخالف ٹیم کو فیلڈنگ کی دعوت دی ۔ سلمان بٹ اور خرم منظور نے اننگز کی شروعات کی اسکور جب 3رنز پر پہنچا تو سلمان بٹ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے ۔ ان کے بعد تجربے کار بیٹسمین یونس خان کریز پر آئے تو انہوں نے پاکستان بیٹنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ویسٹ انڈیز کے ڈیرن پاول اور جرمی ٹیلر نے اپنی سوئنگ اور لائن لینتھ والی گیندوں کے ذریعے پاکستان کو ابتدا میں مشکلات سے دوچار رکھا پاکستان نے 5اووز میں ایک وکٹ کے نقصان پر صرف 15 رنز بنائے خرم منظور نے 30 رنز بنائے جس میں ایک چوکا شامل تھا] ان کے بعد مصباح الحق نے یونس خان کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت کے لئے اسکور میں 103 رنز کا اضافہ کر کے پاکستان کی پوزیشن مستحکم کردی ۔ اس دوران یونس خان جارحانہ موڈ میں نظر آئے، انہوں نے وکٹ کے چاروں طرف دلکش اسٹروک کھیلے 119 گیندوں پر 5چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے انہوں نے 101 رنز بناکر اپنی چھٹی ون ڈے سنچری مکمل کی۔ کپتان شعیب ملک 13اور شاہد آفریدی 6 رنز زیادہ کامیاب نظر نہیں آئے ۔ ٹیم کے یہ دونوں تجربے کار اور مستند بیٹسمین ویسٹ انڈیز بولروں کے سامنے مزاحمت نہ کرسکے تاہم اس دوران مصباح الحق نے پاکستان کی اننگز کو بہتر پوزیشن پر لانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ 91 گیندوں پر 3چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے وہ 79رنز پر ناٹ آؤٹ رہے ۔ وکٹ کیپر کامران اکمل اچھی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے گیارہ گیندوں کا سامنا کیا اور 21رنز اسکور کرنے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے ایک چوکا اور دو چھکے بھی لگائے ۔ پاکستان کے اسکور میں چوتھا بڑا اسکور فاضل رنز کا تھا ۔ 23کے ہندسے کے ساتھ پاکستان کا اسکور مقررہ 50اوورز میں 6وکٹ پر 273 رنز پہنچ گیا۔ ویسٹ انڈیز کو جیت کے لئے 274 رنز کا ہدف ملا ۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے ٹیلر نے 50 رنز کے عوض 2وکٹ لئے ۔ پاول بیکر، ملر اور گیلی نے 45، 70، 55 اور 50 رنز کے عوض ایک ایک وکٹ لی ۔