کراچی(اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر) انڈین کر کٹ لیگ جوائن کر نیو الے ٹیسٹ کر کٹر محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان میں عزت نہ ملنے پر قومی ٹیم کو چھوڑا ہے اور اب کسی قیمت پر آئی سی ایل کو نہیں چھوڑوں گا ۔ انڈین کر کٹ لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی فاتح لاہور بادشاہ کی نمائندگی کر نے والے محمد یوسف نے بھارت سے واپسی پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کر کٹ بورڈ نے اگر میرے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی تو آئی سی ایل اس میں میری مدد کرے گی ۔ تجر بہ کار بیٹسمین کا کہنا تھا کہ کر کٹ بورڈ کے سابقہ عہدیداران اور کپتان شعیب ملک نے مجھے وہ عزت اور مقام نہیں دیا جس کا میں مستحق تھا ٹوئنٹی 20ورلڈ کپ کیلئے مجھے بلاوجہ اور بغیر بتائے ڈراپ کر نے سے خرابیاں پیداہوئیں جس کے بعد میں نے آئی سی ایل جوائن کر نے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے بعد مجھے یقین دہانی کرائی گئی کہ آپ واپس آجائیں اب ایسا کچھ نہیں ہو گالیکن پھر آئی پی ایل میں مجھے نہیں لیا گیا اور کینیڈا ٹوئنٹی 20ٹورنامنٹ کیلئے کہا گہا کہ میرا ویزہ نہیں لگا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ رہائشی ویزے کیلئے اپلائی کیا گیا تھا اور یہ بھی الزام لگایا گیا کہ میں اس سے قبل کینیڈا میں تبلیغ کرتا رہا جس کی وجہ سے ویزہ نہیں ملا حالانکہ میں آخری مرتبہ 99ء میں کینیڈا گیا اور اس وقت میں کرسچین تھا تو پھر تبلیغ کیسے کی اور جہاں تک رہائشی ویزہ اپلائی کر نے کی بات ہے تو آج تک کسی کھلاڑی نے خود فارم بھرا ہی نہیں بلکہ بورڈ والے کوخود ہی فارم بھرتے ہیں مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے کیا لکھا۔ ایک سوال کے جواب میں محمد یوسف نے کہا کہ ممکن ہے شعیب ملک اس وجہ سے میرا مخالف ہو کہ میں کپتانی کا امیدوار ہو سکتا ہوں حالانکہ میں نے کبھی کپتانی کی خواہش کا اظہار نہیں کیا جبکہ سینئر ہونے کے ناطے میرا حق بنتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام عائد کیا گیا کہ میں پیسوں کی خاطر آئی سی ایل کھیل رہا ہوں لیکن میں یہ واضح کر دوں کہ آئی سی ایل میں پرانے معاہدے کے تحت کھیل رہا ہوں کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا اور مجھے پاکستان کیلئے کھیلنے کے عوض جتنے پیسے مل رہے تھے آئی سی ایل میں اس سے کہیں کم مل رہے ہیں جولوگ مجھ پر پیسوں کے عوض کھیلنے کا الزام لگا رہے ہیں ان کا اپنا کیر یکٹر دیکھا جائے۔ پاکستان ہمیشہ میری پہلی ترجیح رہا ہے اور رہے گا میں اب بھی ملک کیلئے کھیلنے کو دستیاب ہوں اگر مجھے بلایا جاتا ہے تو میں آئی سی ایل کی اجازت سے دستیاب ہوں ۔ مجھ پر اور آئی سی ایل کھیلنے والے دیگر پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر دینا انصاف نہیں اور اس میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کر کٹ کو ہو رہا ہے ۔ پاکستان کیلئے مزید 2سے3سال کھیل سکتا ہوں اس وقت بھی ون ڈے اور ٹیسٹ کر کٹ کی عالمی رینکنگ میں شامل ہوں بغیر کھلائے کس طرح کہا گیا کہ میں مختصر طرز کی کر کٹ کیلئے فٹ نہیں ہوں ۔ 2007ء کے عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت دونوں کو شکست ہوئی لیکن اس شکست کے بعد پاکستان مزید نیچے چلا گیا جبکہ بھارت نے اتنی ترقی کی کہ آج وہ آسٹریلیا کے مد مقابل آگیا ہے پاکستان کی کر کٹ چلانے والے کرتا دھر تاؤں کو اس کے بارے میں غور کر نا ہوگا۔ آئی سی ایل اور آئی پی ایل دونوں ہی پرائیویٹ لیگز ہیں اور ایک پر پابندی عائد کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے صرف بورڈ نے پابندی لگا رکھی ہے انٹر نیشنل کر کٹ کونسل نے ابھی تک کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ بورڈ کے موجودہ عہدیداران کے ساتھ بات چیت کرنے مشکل ہے کیونکہ اب آئی سی ایل سے میری واپسی ناممکن ہے۔