لاہور(اردوپوائنٹ سپوٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بیٹسمین جاوید میانداد کو ڈائریکٹر جنرل مقررکیا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے سلیم الطاف کوگزشتہ ماہ ڈائریکٹر بنایا تھا۔ سلیم الطاف کے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے کے بعد یہ عہدہ خالی ہوگیا تھا۔ پی سی بی نے بدھ کو اعلان کیا کہ جاوید میانداد کو ڈائریکٹر جنرل مقررکیا گیا ہے۔ بورڈ میں وہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے نگراں ہوں گے جب کہ انتظامی امورکے سربراہ سلیم الطاف ہوں گے۔ جاوید میانداد نے کہاکہ یہ عہدہ چیلنج ہے اور پاکستان کرکٹ کے وقارکو بحال کروں گا۔ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ سابق ٹیسٹ کرکٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سربراہ بننے کے بعد زیادہ ترکرکٹرزکی تقرری کی ہے۔ جیف لاسن کی برطرفی کے بعد جاوید میانداد نے قومی ٹیم کا کوچ بننے سے انکارکر دیا تھا لیکن انہوں نے ڈی جی کا اہم عہدہ قبول کرلیا۔ میانداد کے اہل خانہ کراچی میں مقیم ہیں لیکن وہ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد لاہور منتقل ہو جائیں گے۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف نے جنگ کو بتایا کہ ان کے معاہدے کی تفصیلات طے ہونا ابھی باقی ہیں۔ 51 سالہ جاوید میانداد تین بار پاکستان ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں۔ جنرل توقیر ضیاء کے دور میں وہ پی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے رکن تھے۔2004ء میں سابق چیئرمین شہریار خان نے جاوید میاندادکو ہٹا کر باب وولمرکو قومی ٹیم کا کوچ مقررکیا تھا۔ اب چار سال بعد میانداد کی پی سی بی میں اہم عہدے کے لیے تقرری ہوئی ہے۔ اپنے دورکے اسٹار بیٹسمین پاکستان کے لیے124 ٹیسٹ میچوں میں52.57 کی اوسط سے8832 رنز بنا چکے ہیں۔233 ون ڈے انٹرنیشنل میں41.70 کی اوسط سے7381 رنز اسکورکر چکے ہیں۔ وہ 1992ء میں پاکستان کو ورلڈکپ میں تاریخی فتح سے ہمکنارکرا چکے ہیں۔ جاوید میانداد نے کہا کہ میں پی سی بی میں کرکٹ کے امورکا سربراہ ہوں گا۔ انٹرنیشنل اور فرسٹ کلاس کرکٹ میرے ماتحت کام کرے گی۔ میری اولین ترجیح ہے کہ اپنے وسیع تجربے سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ پہنچاؤں۔ پاکستان کرکٹ کا گراف تیزی سے نیچے آ رہا ہے، میں کوشش کروں گا کہ پاکستان کرکٹ کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کروں۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن اس ٹیلنٹ کو درست انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ میں اعجاز بٹ صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھ پر بھرپور اعتماد کیا۔ میں ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا، مجھ پر بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ میں اپنے انداز میں کام کرکے فرسٹ کلاس کرکٹ کے معیار میں بہتری لاؤں گا اور انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان ٹیم کوکھویا ہوا مقام دلواؤں گا، ملک کے وقارکو بلند کرنے کے لیے ہر قدم اٹھاؤں گا۔ جاوید میانداد نے کہاکہ میں نے کرکٹ کا آغازگلی کوچوں سے کیا تھا اس لیے مجھے مسائل کا اندازہ ہے اور یہ بھی علم ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا حکمت عملی تیارکی جائے۔ امید ہے کہ کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی عظمت رفتہ کو بحال کروں گا۔ پاکستان کے بیٹسمین محمد یوسف اور شعیب اخترکے مستقبل کے بارے میں انہوں نے کہاکہ میرا تعلق ان کے معاملات سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں کسی بھی مسئلے پرکرکٹرکو مشورہ اور مدد فراہم کر سکتا ہوں۔ کھیل کے حوالے سے کرکٹرزکی مددکر سکتا ہوں لیکن یہ معاملات ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں