لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق ٹیسٹ کرکٹرمحمد الیاس کو جونیئر سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔محمد الیاس کی سربراہی میں جونیئر سلیکشن کمیٹی پانچ اراکین پر مشتمل ہوگی جو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو پاکستان اے ،اکیڈمی ٹیم اور انڈر19،15اور17ٹیم کامنتخب کریگی۔سلیکشن کمیٹی کے دیگر ممبران میں باسط علی ،علی احمد ،فرخ زمان،افضل گجر اور آصف بلوچ شامل ہیں ۔تمام سلیکٹرزتنخواہ دارور ریگولر جاب پر ہونگے۔جونیئر سلیکشن کمیٹی کی تقرری کے اعلان کے بعد قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف سلیکٹر محمد الیاس نے کہاکہ ان کا ٹارگٹ 2011ء کا ورلڈکپ ہے جس کیلئے وہ چاہتے ہیں کہ جونیئر سطح پر کم از کم چارکھلاڑی تیار کرکے قومی ٹیم کو دئیے جائیں جومذکورہ ایونٹ میں پاکستان کو فتوحات دلائیں۔محمد الیاس کا کہنا ہے کہ جونیئر سطح پر باصلاحیت کھلاڑی کو موقع دیا جائیگا اور وہ کھلاڑی آگے آئیں گے جن کی کارکردگی نمایاں ہوگی اور بہترین فٹنس کے مالک ہونگے۔ایک سوال کے جواب میں محمد الیاس نے کہاکہ انہیں کرکٹ بورڈ کی جانب سے مکمل طور پر فری ہینڈ دیا گیا ہے اور وہ میرٹ پر ہی کھلاڑی کا انتخاب کرینگے۔جونیئر سلیکشن کمیٹی کے دیگرممبران ڈی جی پی سی بی جاوید میانداد کے ساتھ مشاورت کے بعد منتخب کیے گئے ہیں اور تمام صوبوں اور ریجنز کو نمائندگی دی گئی ہے کہ تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع ملے۔انہوں نے کہاکہ تمام اراکین کے باہمی مشورے سے ٹیموں کا انتخاب کیا جائیگا اور جونیئر سطح پر قومی ٹیم ایک بار پھر کامیابی کی راہ پر چل پڑے گی۔62سالہ محمد الیاس نے آسٹریلیا کے خلاف 1964ء میں اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا ۔وہ ڈومیسٹک لیول پر ایک کامیاب مڈل آرڈر بیٹسمین مانے جاتے تھے لیکن پاکستانی ٹیم کی جانب سے وہ بطور اوپنر کھیلتے رہے ۔محمد الیاس نے پاکستان کی جانب سے آٹھ ٹیسٹ میچز میں 441رنز بنائے جن میں ایک سنچری جو کہ انہوں نے کراچی میں نیوزی لینڈکے خلاف بنائی جبکہ اور ہاف سنچریاں شامل ہیں۔محمد الیاس پاکستان کے علاوہ پی آئی اے اورپنجاب یونیورسٹی کی جانب سے بھی کھیلتے رہے۔انہوں نے پاکستان کی جانب ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف ڈھاکہ میں کھیلا جہاں انہوں نے پہلے اننگزمیں 20اور دوسری 21رنز بنائے ۔محمد الیاس نوجوان اوپنر عمران فرحت کے سسر بھی ہیں جبکہ عمران فرحت کے آئی سی ایل جوائن کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی سابقہ انتظامیہ نے محمد الیاس کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا لیکن محمد الیاس نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور بورڈ کی غلط پالیسی پر ہمیشہ آواز اٹھائی۔