اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین27 اگست 2007 )پاکستانی ٹیم کے سابق نائب کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انڈین کرکٹ لیگ میں حصہ لیں گے۔ ابھی پاکستان میں ان کی کرکٹ باقی ہے۔ نئے کوچ اور ٹرینٹر کی آمد سے تربیت منظم ہوگی ۔شعیب کی کپتانی میں کھیلنے میں کوئی عار نہیں۔توجہ بلے بازی پر مرکوز ہے ۔مزید دوسال تک کرکٹ کھیلوں گا ۔2009 ء میں عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا ۔میڈیاسے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈین لیگ والوں نے انہیں بھی پیشکش کی ہے لیکن انہیں کوئی جلدی نہیں اور وہ ابھی پاکستان کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چند برس بعد جب انہیں پیسے کی ضرورت ہوگی اور وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کی بین الاقوامی کرکٹ ختم ہو رہی ہے تو وہ انڈین لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔یونس خان نے کاوٴنٹی کرکٹ سے واپس آ کر لاہور میں جاری کیمپ میں تربیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے کنٹریکٹ پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔محمد یوسف کے انڈین لیگ میں شامل ہونے پر پاکستان کے لیے مستقبل میں نہ دستیاب ہونے پر یونس خان کا کہنا تھا کہ کسی کے ٹیم میں ہونے یا نہ ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا کہ بہت سے کھلاڑی جا چکے ہیں شاید دو سال بعد وہ خود بھی ٹیم میں نہیں ہوں گے کرکٹ وہی رہے گی لہذٰا کسی کے ٹیم میں آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ’میری توجہ صرف میرے اپنے کام پر ہے اسی لیے میں نے کپتانی کا عہدہ بھی نہیں لیا اور مجھے بیٹنگ لائن میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور میری خواہش ہے کہ میں آخر تک وکٹ پر کھڑا رہوں‘۔شعیب ملک کے کپتان بنانے کے بعد پہلی مرتبہ یونس خان ٹیم میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سات سال سے وہ شعیب ملک کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور انہیں ان کی کپتانی سے کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ یونس خان نے کہا کہ وہ پاکستان کی ٹیم کو کافی اونچے مقام پر دیکھا ہے اور ہماری ٹیم میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک ضرور پہنچے۔یونیس خان نے نئے کوچ کی تقرری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ٹرینرز اور کوچ آتے ہیں تو تربیت کافی منظم ہوتی ہے اور انہیں کافی بہتر محسوس ہوتا ہے۔یونس خان نے کہا کہ کاوٴنٹی میں ان کا کافی بھرپور سیزن گزرا اور وہاں کے حالات میں بیٹنگ کر کے اور کارکردگی دکھا کر وہ بہت مطمئن ہیں۔ یونس خان کے بقول’ کاوٴنٹی کرکٹ بہت منظم ہے جس کا پاکستان کی مقامی کرکٹ میں فقدان ہے۔