اسلام آباد،لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک 31-اگست 2007) پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ صدر جنرل پرویز مشرف نے پی سی بی کے آئین کی منظوری دیدی ہے اور آئین کی بحالی کے بعد صدر نے ڈاکٹر نسیم اشرف کو چیئر مین پی سی بی نامزد کر دیا ۔\"جناح\" سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ جیسے ہی انہیں ایوان صدر سے باقاعدہ نوٹیفکیشن موصول ہوا تو اسے ملک بھر میں نافذ کر دیا جائیگا۔ پی سی بی کے آئین کے تحت ضلعی کرکٹ ایسوسی ایشن کو زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے جبکہ انہیں انٹرنیشنل میچوں کی آمدنی میں پچاس فیصد کا حصے دار بھی قرار دیا گیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی کا تقرر پیٹرن چیف ہی کرینگے جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کے ممبران میں سے ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ پیٹرن چیف برائے راست بھی ممبران کی تقرریاں کر سکیں گے ۔یاد رہے کہ پی سی بی کا آئین 17 جولائی 1999ء سے معطل ہے اور سابق چیئر مین مجیب الرحمن ، ڈاکٹر ظفر الطاف،توقیر ضیائ،شہریاراحمد خان، ڈاکٹر نسیم اشرف سمیت تمام چیئر مین ایڈہاک ازم پر چل رہے تھے۔نئے آئین کے تحت 12رکنی ایگزیکٹو کونسل ہو گی ۔ کونسل میں 5 نمائندے ایسوسی ایشنوں کے، 2 اداروں کے ہوں گے۔ 3 ٹیکنو کریٹس چیئرمین پی سی بی اور چیف آپریٹنگ آفیسر کونسل کے رکن ہوں گے۔ چیئرمین پی سی بی ایگزیکٹو کونسل کا سربراہ ہوگی اور تمام فیصلے ایگزیکٹو کونسل کی منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوں گے۔ ایگزیکٹو کونسل کے علاوہ جنرل کونسل بھی پی سی بی کے آئین کے تحت سال میں کم از کم ایک مرتبہ اجلاس ضرور منعقد کرے گی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ صدر مملکت نے ترمیم شدہ آئین کے مسودے پر 10 اگست کو ہی دستخط کردیئے تھے۔ اب ایک دو روز میں اس کا ضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔ آئین کی فوری منظوری کا موجودہ سیاسی تبدیلیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پی سی بی کے معاملات کو چلانا ون مین شو نہیں ہوگا۔ نئے آئین کے تحت اختیارات چیئرمین کے پاس نہیں ہوں گے اور مشاورت کے ساتھ کام کیا جائيگا۔