لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک-08 ستمبر2007) پی سی بی نے محمد آصف کو بیٹ مارنے اور غلیظ گالیاں دینے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شعیب اختر پر غیرمعینہ مدت کيلئے پابندی لگا دی۔ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے بتایاکہ چیئرمین بورڈ نے اس واقعہ کو سنگین قرار دیا اور اسے ملک کی بدنامی کا باعث قرار دیا اور کہا ہے کہ قصور وار کھلاڑی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی تاہم شعیب اختر کو صفائی کا بھرپور موقع دیا جائے گا اور جب تک ڈسپلنری کمیٹی ان کو بری نہیں کرتی اس وقت تک ان پر کھیلنے کی پابندی عائد رہے گی۔ یہ پابندی ڈسپلنری فیصلے سے مشروط ہے اس لئے اسے غیرمعینہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ٹیم مینجمنٹ کمیٹی جس میں کپتان، وائس کپتان، منیجر اور کوچ شامل تھے انہوں نے انکوائری کے بعد 5انٹرنیشنل میچوں پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ ٹیم مینجمنٹ کے ایک اجلاس میں شعیب اختر کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا اس سلسلے میں مختلف کھلاڑیوں نے ان کے خلاف گواہی دی جس کے بعد منیجر طلعت علی نے لاہور میں پی سی بی آفیشلز کو اس کی اطلاع دی جس پر پی سی بی آفیشل نے کہا کہ شعیب اختر کو پہلی دستیاب فلائٹ سے واپس بھیج دیا جائے۔ پاکستان واپسی کے بعد ان کا کیس پی سی بی کی تادیبی کمیٹی کے سپرد کردیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ہے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے بتایا کہ جمعرات کو ٹیم کے پریکٹس سیشن میں شعیب اختر کا اپنے ساتھی کھلاڑی محمد آصف کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا جس پر شعیب اختر نے ان کو بیٹ مار کر زخمی کردیا اور انتہائی غلیظ گالیاں دیں انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں ان میں شعیب اختر کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرا ردیا گیا ہے شفقت نغمی نے بتایا کہ محمد آصف کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا ان کا ایکسرے لیا لیکن تشویش کی کوئی بات نہیں وہ 12ستمبر کو سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ کے لئے دستیاب ہوں گے کراچی کے تربیتی کیمپ میں بغیر اطلاع غائب ہونے پر ان کو3لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا جو بعد میں ان کی اپیل پر معاف کردیا گیا تھا ۔