لاہور (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک-15 ستمبر2007)پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگلے برس ٹوٹنی ٹونٹی پریمیئر لیگ کرانے کا اعلان کردیا ہے جس میں پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقا کی دو، دو ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس بات کا اعلان ہفتے کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پریس کانفرنس میں کیا۔ وہ نئی دہلی سے وطن واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے انڈین کرکٹ بورڈ کی پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہاکہ پی سی بی نے ٹوئنٹی20 پریمیئر لیگ کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ آئندہ سال اکتوبر اور نومبر میں ہوگا۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقا کی ٹیموں کے علاوہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کو اس پریمیئر لیگ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی لیگ الگ الگ ہیں اور ایک وقت میں نہیں ہوں گی۔ ہم اپنی پریمیئر لیگ کے لیے غیرملکی کھلاڑیوں کی خدمات بھاری معاوضے کے عوض حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ سال آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فوراً بعد یہ ٹورنامنٹ ہوگا، جس میں ٹیموں کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ 6 سے10 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ واضح رہے کہ بھارت نے آسٹریلیا، جنوبی افریقا اور انگلینڈ کی مدد سے لیگ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ ہر ٹیم میں چار غیرملکی کھلاڑی ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پریمیئر لیگ کا انعقاد سابق پاکستانی کرکٹرز کریں گے۔ اس سے سابق کھلاڑیوں کی مالی اعانت ہو سکے گی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان میں شروع کی جانے والی لیگ کا انڈین کرکٹ لیگ کو کنٹرول کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ گزشتہ ایک سال سے چیمپئنز لیگ کے آئیڈیا پر کام کر رہا تھا، اس نے اس بارے میں تمام بورڈ سے رائے لی تھی۔ یہ آئی سی سی کا منظورشدہ منصوبہ ہے، جس سے کھلاڑیوں کو زبردست مالی فائدہ حاصل ہوسکے گا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ یہ ایونٹ فٹ بال کی مشہور انگلش پریمیئر لیگ کی طرز پر ہوگا، جس میں غیرملکی کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ بولی دی جائے گی اور یہ کھلاڑی ضرورت پڑنے پر اپنے ملک کے لیے بھی کھیل سکیں گے۔ ہر ٹیم کی مینجمنٹ چار غیرملکی کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شعیب اختر کیس کی تحقیقات کا آغاز پاکستان ٹیم کی وطن واپسی پر ہوگا۔ پی سی بی نے شفقت نغمی، ذاکر خان اور ندیم اکرم پر مشتمل ڈسپلنری کمیٹی کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے۔ یہ کمیٹی غیرجانب دارانہ تحقیقات کرے گی۔