لاہو(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک08-اکتوبر2007) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ورلڈ کلاس کھلاڑی انضمام الحق نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میرے ٹیسٹ کیریئر کے آخری میچ میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف پاکستان فتح سے ہمکنار ہو اور میں اپنی کارکردگی سے پاکستانی ٹیم کو جتواؤں اور پاکستانی ٹیم کی جیت کے ساتھ اپنے کیریئر کو ختم کرتے ہوئے اسے یادگار بناؤں۔ وہ گزشتہ روز قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کے خلاف آج شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے سلسلہ میں ٹیم نیٹ پریکٹس کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 16 سال قبل اسی سٹیڈیم میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا تھا اور آج 16 سال بعد اسی گراؤنڈ سے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آخری میچ کھیلنے جارہے ہیں۔ انہوں نے اپنے 16 سالہ کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران بہت سے اتار چڑھاؤ آئے۔ تاہم وہ اپنے کیریئر سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔ جتنی کرکٹ کھیلی اس سے بھی مطمئن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان مذکورہ ٹیسٹ جیتے اور اس جیت کے ساتھ ہی اپنے کیریئر کو گڈ بائے کہوں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ 2007ء سے پاکستانی ٹیم کا آؤٹ ہونا اور کوچ باب وولمر کی موت کے لمحات میری زندگی کے مشکل ترین لمحات تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج آخری مرتبہ قومی ٹیم کے ساتھ پریکٹس کرتے ہوئے خود کو جذباتی محسوس کررہا ہوں۔ اتنا عرصہ ٹیم سے وابستگی کی وجہ سے جذباتی ہونا نیچرل سی بات ہے مگر جو آتا ہے اس کو ایک دن جانا ہوتا ہے۔ اپنے کیریئر کو گڈ بائے کہنے کا فیصلہ مشکل ضرور ہے مگر ہر انسان کو اس کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ کراچی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی شکست کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 20 اوورز ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں بہت فرق ہے۔ ٹیم نے اچھی کوشش کی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے کم بیک کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2007ء ورلڈ کپ کے بعد پاکستانی ٹیم مشکلات کا شکار تھی مگر اب نیا ٹیلنٹ سامنے نظر آرہا ہے۔ ٹیم جلد ہی وننگ کمبی نیشن میں تبدیل ہوجائے گی۔ نوجوان کھلاڑیوں سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے قومی کھلاڑیوں کو رخصت کرنے جیسے اقدام پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت اور اچھی روایت ہے جس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔