لندن (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک14-نومبر2007) رنگین کپڑوں کے بعد کرکٹ میں ایک اور جدت آنے کا امکان ہے ۔ کرکٹ کی قدیم روایات کے امین میریلیبون کرکٹ کلب نے ون ڈے میچز کیلیے گلابی رنگ کی گیند متعارف کرانے کا پروگرام بنایا ہے ۔کلب کا کہنا ہے کہ اپنے رنگ کی وجہ سے یہ گیندیں سفید بالز کے مقابلے میں بیٹسمین کو نسبتاً زیادہ بہتر طور پر اور کچھ جلدی نظر آتی ہیں ۔ معروف آسٹریلوی کمپنی کوکابرا کی تیار کردہ گیندیں فی الحال آسٹریلیا میں خواتین کرکٹ میچز میں زیر استعمال ہیں ۔ تاہم ایم سی سی پہلے انہیں یونیورسٹی سطح اور سیکنڈ الیون میچز کے دوران تجرباتی طور پر استعمال کرے گا ، اگر یہ آزمائش میں پوری اتریں اور ان سے وابستہ توقعات پوری ہوئیں تو انہیں 2009میں ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ میریلیبون کے شعبہ کرکٹ کے سربراہ جون اسٹیفنسن کا کہنا ہے کہ سب ہی جانتے ہیں کہ ایک روزہ میچز میں استعمال ہونے والی سفید گیند کا رنگ بہت جلد خراب ہونے لگتا ہے اور وہ مٹیالی ہونے کی وجہ سے بیٹسمین کو ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتی ، ہمارا مقصد ایسی گیند کی تیاری ہے جو تادیر اپنی اصل شکل میں برقرار رکھ سکے ۔ ہم نے کوکا برا کو گلابی گیندیں تیار کرنے کا آرڈر دیا ہے، انہیں ہم تجرباتی طور پر استعمال کریں گے ، کامیابی کی صورت میں ان کا استعمال بڑھایا جائے گا ۔ اسٹیفنسن نے کہا کہ میں نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے وابستہ سابق کپتان مائیک گیٹنگ سے درخواست کی ہے کہ کاؤنٹی سیکنڈ الیون ون ڈے میچز گلابی گیندوں سے کرائے جائیں ، تاہم ہمارا ارادہ ہے کہ ہم مذکورہ گیندوں سے ایم سی سی اور یورپ کے درمیان کے شیڈول میچز کے علاوہ یونیورسٹی چیمپئین شپ کے مقابلے کرائیں ۔ مائیک گیٹنگ کا کہنا ہے کہ میں اس تجربہ پر نظر رکھے ہوئے ہوں، ہماری پوری کوشش ہے کہ کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے کرکٹ کو آسان اور بہتر بنایا جائے ، میچز میں سفید کے ساتھ اورنج گیند استعمال کی جاچکی ہے ۔ میرے خیال میں یہ نہایت دلچسپ ہوگا ، تاہم ہمیں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے قبل اس بارے میں کیے جانے والے تجربات کے نتائج سے استفادہ کرنا ہوگا ۔