کراچی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک17-نومبر2007) پاکستانی کرکٹ حلقوں نے سابق کپتان اور تحریک انصاف کے صدر عمران خان کی گرفتاری پر انتہائی دکھ اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔ 1992ء کرکٹ ورلڈکپ کی فاتح پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے عمران خان کو منگل کو پنجاب یونیورسٹی میں ایمرجنسی کے خلاف طلباء ریلی سے گرفتارکرلیا گیا تھا۔ سابق آل راؤنڈرکوگرفتاری کے دوران مبینہ طور پر سخت بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کے سابق ساتھی کرکٹر جاوید میانداد نے کہاکہ ان کوعمران کی گرفتاری کی تصاویر دیکھ کر پریشانی ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب عمران سیاست میں داخل ہوئے تو وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تاہم ان کے ساتھ کھیلنے اورکپتان کی حیثیت سے انہیں قریب سے دیکھنے کے بعد کرکٹرزکیلئے ان کوگرفتار ہوتے دیکھنا آسان نہیں ہے۔ سابق قومی سلیکٹر اور ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ وہ عمران کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہیں۔ قاسم نے کہا کہ ہم نے ایک کھلاڑی اور کپتان کی حیثیت سے عمران کا بہت احترام کیا۔ عمران کی پاکستان کرکٹ میں پوزیشن غیر متنازع اور تاریخی ہے۔ میں نے عمران کے سیاست میں قدم رکھنے کے فیصلے کوکبھی بھی مناسب نہیں سمجھا، تاہم انہوں نے یہ فیصلہ کیا اور اب وہ دلیری سے اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ انڈین کرکٹ لیگ میں جلوہ گر ہونے کے منتظرآل راوٴنڈر عبدالرزاق نے کہا کہ جس طریقے سے عمران خان کو طلباء اور پولیس کے رویّے کا سامنا کرناپڑا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔