نئی دہلی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک21-نومبر2007)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر نسیم اشرف نے فاسٹ بولر شعیب اختر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کھیل پر توجہ دیں۔نائٹ کلبوں میں جانے کی خبروں کی ثبوت نہیں مل سکے ہیں۔تاہم اگر ایسا کوئی ثبوت سامنے آتا ہے تو بورڈ کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ منگل کونئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا دس سال کے بچے کو ماں باپ سمجھا سکتے ہیں، زبردستی نہیں کرسکتے۔ہم نے ہر کھلاڑی کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مقرر کیا ہے اس ضابطہ اخلاق کے تحت کھلاڑی کو کرفیو ٹائمنگ کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ شعیب اختر اگر کرفیو کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور گراؤنڈ میں سوفیصد کارکردگی دکھاتے ہیں تو ہمیں ان سے کارکردگی کی ضرورت ہے۔ اگر صبح میچ نہیں ہے تو کھلاڑی گھوم پھر سکتے ہیں لیکن انہیں حدود کے اندر رہنا ہوگا۔شعیب اختر نے ابھی تک ون ڈے سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور ٹیسٹ سیریز میں ٹیم ان کی کارکردگی پر انحصار کررہی ہے۔ بھارت میں ابتدا میں ان کے خلاف میڈیا نے غلط اسکینڈل ٹیلی وژن پر دکھایا تھا۔منیجر طلعت علی نے اس واقعے کی رپورٹ بورڈ کو دے دی ہے۔دورے میں منیجر کے پاس پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے اختیارات ہیں۔اس کے بعد میڈیا منیجر آتے ہیں۔اگر کوئی کھلاڑی ڈسپلن توڑتا ہے تو پہلے منیجر اس کے خلاف کارروائی کرے گابعد میں وہ بورڈ کو اطلا ع دے گ