نئی دہلی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک 26 نومبر2007)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک پر کارکردگی کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور سابق کپتان اور ماضی کے عظیم کھلاڑی عمران خان بھی ان پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہوگئے ہیں ۔ ان کی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ شعیب ملک پر ہونے والی تنقید اس لیے زور پکڑتی جارہی ہے کہ ان کی قیادت میں پاکستان ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز اور بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز ہارگئی اور اب دہلی ٹیسٹ میں بھی شکست یقینی ہے۔ بھارتی اخبار کے لیے اپنے کالم میں عمران خان نے کہا کہ وہ مائیک بریرلی کی طرح کسی کوکپتان بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ بریرلی کی انفرادی کارکردگی صفر تھی لیکن وہ انگلینڈ کے اچھے کپتان تصور کیے جاتے ہیں۔ عمران نے کہا کہ کپتان اسے بنایا جانا چاہیے جو اچھا کھلاڑی ہو۔ شعیب ملک نے نئی دہلی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں صفر اور دوسری میں11رنز بنائے تھے ۔ بھارت کے خلاف ابتدائی چار ایک روزہ میچوں میں انہوں نے قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی لیکن جے پورکے آخری ون ڈے میں انہوں نے 89رنز بنانے کے علاوہ تین وکٹ حاصل کرکے پاکستان کو فتح دلوائی۔ بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز میں شعیب ملک نے31.80 کی اوسط سے159 رنز بنائے اور 46.66 کی اوسط سے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ۔بھارت میں اکثر ماہرین کی رائے میں موجودہ ٹیسٹ ٹیم میں ان کی جگہ نہیں بنتی کیونکہ وہ ٹیسٹ کے مقابلے میں ون ڈے کے بہتر کھلاڑی ہیں ۔ حیران کن طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب ملک کو اگلے سال دسمبر تک کپتان مقرر کر رکھا ہے۔