نئی دہلی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک 28 نومبر2007) پاکستان اور بھارت کے دو لیجنڈ کرکٹرز نے دہلی ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کے بعد تنقید کی توپوں کا رخ شعیب ملک کی قیادت اور بطور بلے باز کارکردگی کی طرف موڑ دیا۔ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان نے بھارت کے ایک انگریزی اخبار میں لکھے گئے اپنے کالم میں کہا کہ جب تک شعیب ملک کی ٹیم میں شمولیت شک وشبہ سے بالا نہیں ہوتی وہ بطور کپتان بھی کارکردگی دکھانے سے قاصر رہیں گے۔ شعیب ملک نے فیروز شاہ کوٹلہ میں پہلی اننگز میں صفر اور دوسری اننگز میں 11 رنز بنائے تھے۔ عمران خان نے کالم میں لکھا کہ بھارتی ٹیم بھی ایک نئے کپتان کی قیادت میں کھیل رہی ہے لیکن انیل کمبلے کے پاس 17 سال کھیلنے کا تجربہ موجود ہے۔ اس لیے اس نے بہتر انداز میں اپنی ٹیم کی قیادت کی اور خود باؤلر ہونے کی حیثیت سے اس نے باؤلنگ میں تبدیلی حالات کے مطابق کی۔ عمران خان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شعیب ملک میں قیادت کے جراثیم موجود ہیں، ان میں بہتری آ رہی ہے لیکن بطور بلے باز ان کی ٹیم میں شمولیت سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ اگر انہوں نے اپنی بیٹنگ بہتر نہ کی تو ان کا ٹیم میں شامل ہونا غیریقینی ہو جائے گا۔ سنیل گواسکر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم انضمام الحق کے بعد ابھی تک اپنی شناخت کو تلاش کر رہی ہے۔ انضمام نہ صرف بطور کپتان کھلاڑیوں کے لیے تحریک بنتے تھے بلکہ ان کا رویہ بڑے بھائی کا تھا لیکن شعیب ملک میں ان خوبیوں کا فقدان ہے جو انضمام میں موجود تھیں۔ سنیل گواسکر نے کہا کہ شعیب ملک ٹیم کی قیادت کرنے میں اس لیے کمزوریوں کا اظہار کر رہے ہیں کہ ٹیم میں ان کی شرکت یقینی نہیں ہے۔ شعیب ملک نے پہلی بار ہوم سیریز میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف ٹیم کی قیادت کی اور سیریز ہار گئے۔