کولکتہ (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک03-دسمبر2007)کولکتہ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی کرنے والے یونس خان نے انکشاف کیا ہے کہ مجھے آخری لمحات میں کپتان بنایا گیا ،دوسرے ٹیسٹ میں ہونے والے کئی فیصلوں کا میں ذمے دار نہیں ہوں ،جس میں شعیب اختر کو کھلانے کا فیصلہ بھی شامل ہے اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو کئی فیصلے مختلف ہوتے ۔ یہ باتیں انہوں نے اپنے کالم میں کہیں اس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو کالم لکھنے کی اجازت دیے جانے کے منفی اثرات سامنے آرہے ہیں ۔ پاکستان کر کٹ بورڈ کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا کہ کالم منیجر سے کلیئر کرائے جاتے ہیں ۔ نائب کپتان کے ٹیم کی پالیسیوں پر تنقید کرکے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے ۔اتوار کو ایک بھارتی اخبار میں اپنے کالم میں اسٹار بیٹسمین نے کہا کہ ایمانداری کی بات ہے کہ ان حالات میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔دوسرے ٹیسٹ سے قبل یہ صورتحال یہ تھی کہ ہمیں گیارہ فٹ کھلاڑی نہیں مل رہے تھے، لیکن میں ہمیشہ سے پر امید رہتا ہوں اور مثبت سوچ رکھتا ہوں کوشش کرتا ہوں کہ کبھی بہانے تلاش نہ کروں لیکن موجودہ حالات میں ایسے حقائق بتا رہا ہوں جسے لوگ جاننا چاہتے ہیں ۔لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستانی کھلاڑی فیلڈ میں بے بس تھے ،ان کی باڈی لینگویج کو کیا ہوگیا تھا ۔میں نے پوری کوشش کی کہ لڑکے یہ ٹیسٹ مثبت سوچ کے ساتھ کھیلیں ،میں انہیں یہی بتاتا رہا کہ سیریز ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔یونس خان نے کہا کہ میں یہاں کپتان بن کر نہیں آیا تھا ۔مجھے آخری لمحات میں یہ بتایا گیا کہ میں نے کپتانی کرنا ہے ،مجھے شعیب اختر کو کھلانے کے بارے میں کہا گیا حالانکہ وہ پوری طرح فٹ نہیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے صبح بتایاکہ میں نے کپتانی کرنا ہے۔ میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ ذمے داری نبھاؤں ۔اگر فیصلے لینے کا حق مجھے ہوتا تو میں اپنی سوچ کے مطابق بہت سی مختلف چیزیں کرتا ۔یونس خان نے کہا کہ میچ کی صبح کوچ جیف لاسن اور منیجر طلعت علی مشکل صورتحال سے دوچار تھے ، وہ گیارہ فٹ کھلاڑیوں کو تلاش کررہے تھے ۔حیران کن طور پر یہ سب کچھ بھارت کی اہم سیریز میں ہورہا تھا ۔یہ صورتحال مشکل تھی اگر آپ کے پاس فٹ کھلاڑی نہیں ہیں تو چوکے اور رنز روکنا مشکل ہوجاتاہے ۔یونس خان نے اعتراف کیا کہ میں ھچکچاہٹ اور پس و پیش والا کپتان ہوں ، میری جگہ کوئی اور تجربہ کار کھلاڑی ہو تا تو وہ بھی یہی کرتا ۔میچ میں ہمیں مشکلات ہیں لیکن ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔وکٹ میں بولروں کے لئے کچھ نہیں ہے ۔اس بارے میں پاکستان ٹیم کے منیجر طلعت علی ملک نے کہا کہ یونس خان کو چار دن قبل پتہ تھا کہ انہیں کپتانی کرنا ہے ۔اگر کپتان ان فٹ ہیں تو یہ بات طے ہے کہ نائب کپتان ہی کو قیادت کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ الیون کے اعلان سے قبل کوچ جیف لاسن نے یونس خان سے مشورے کے بعد ٹیم منتخب کی تھی ۔اس لئے یونس کی شکایت بلاجواز ہے