کولکتہ (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک03-دسمبر2007)کامران اکمل کو اپنی خراب وکٹ کیپنگ کی وجہ سے تنقیدکا سامنا ہے لیکن انہوں نے بیٹنگ کے شعبے میں ایک بار پھر اپنے آپ کو مردِ بحران ثابت کردیا اورکولکتہ ٹیسٹ میں شاندار اور یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت بیٹسمین نہیں بلکہ وکٹ کیپرکی حیثیت سے ہو۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ کامران اکمل نے کہا کہ میں اس سنچری کو اپنے والد کے نام کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ جنوری میں جب پاکستان ٹیم جنوبی افریقا کے دورے پر تھی، ڈکیتی میں مزاحمت پرکامران کے والد کو شدید زخمی کردیا گیا تھا۔ کامران اکمل سنچری بنانے کے بعد پریس کانفرنس میں آئے تو انہوں نے پُروقار انداز میں کہا کہ مجھے اپنے کیریئر میں تنقید کے باوجود اپنے ماں باپ کی دعاؤں سے کامیابیاں ملی ہیں، میں بیٹنگ میں جو بھی کرلوں وکٹ کیپرکی حیثیت سے کھیلنا چاہتا ہوں، وکٹ کیپنگ ہی میری شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصباح نے اننگزکے دوران میرا بھرپور ساتھ دیا، بھارت کے خلاف سنچری بنانے کی عادت پڑگئی ہے، دیگر چار سنچریوں کے مقابلے میں یہ اننگز اچھی اور یادگار ہے۔ وکٹ کیپنگ میں خامیوں کو دورکرنے کے لیے تمام عظیم وکٹ کیپرز وسیم باری، راشد لطیف، معین خان اور اپنے بھائی عدنان اکمل سے مشورہ کیا ہے، ان کے مشورے پر بہتری لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف ہر سنچری کا اپنا مزا ہے جب یہ سنچری بحران میں بنے تو اس کا لطف اور خوشی ہی کچھ اور ہے۔ یہ سب سے ٹف سنچری تھی اور مجھ پر دباؤ بھی زیادہ تھا پھر بڑے کراؤڈ کے سامنے سنچری بنانے کا اپنا مزا ہے،کیونکہ ان کی وجہ سے بھی دباؤ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وکٹ اب بھی آسان نہیں ہے، ہمیں میچ بچانے کے لیے مزید70،80 رنز بنانا ہوں گے۔ ہربھجن سنگھ اور انیل کمبلے ورلڈ کلاس اسپنر ہیں لیکن سب سے بہترین بولنگ ظہیر خان کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپتان یونس اور جیف لاسن نے ہمیں یہ ہدایت دی تھی کہ آدھے، آدھے گھنٹے کی پلاننگ کرکے کھیلنا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی کارکردگی میں اعتماد اس وقت ملے گا جب پاکستان میچ بچائے گا، میں بڑی اننگزکھیلنا چاہتا تھا، تاہم غلط وقت پر آؤٹ ہوگیا۔