بنگلور (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک10-دسمبر2007) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر رمیز راجہ نے تجویز دی ہے کہ قومی ٹیم کو جیت کی راہ پر لانے کے لیے بورڈ کے حکام کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے اورکئی کھلاڑیوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ وہ اتوارکو چنا سوامی اسٹیڈیم میں جنگ کو انٹرویو دے رہے تھے۔رمیزراجہ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے بھارت کے خلاف جس قسم کی کارکردگی دکھائی ہے اس کے بعد کئی کھلاڑیوں کے کیریئر پر سوالیہ نشان سامنے آیا ہے، ایسی ٹیم جس میں کوئی کپتانی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس سے بڑھ کر بورڈ کے لیے مشکل صورتحال کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان اگر نائب کپتان بننے کے لیے تیار نہیں ہے تو بورڈ کو یہ ذمے داری کسی اور کھلاڑی کو سونپ دینی چاہیے۔ میرے خیال میں شعیب ملک کو مزیدکپتان بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے، قیادت کسی ایسے کھلاڑی کو سونپی جائے جس کی ٹیم میں جگہ بن سکے۔ میں نے یہ بات پہلے بھی کی تھی اور اب بھی دہرا رہا ہوں کہ مصباح الحق کوکپتان بنایا جائے۔ اس کے ساتھ کسی ایسے نوجوان کو نائب کپتان بنایا جائے جو کپتانی میں دلچسپی رکھتا ہو۔ ہمارے ڈسپلن کا یہ عالم ہے کہ کپتان پریس کانفرنس میں کپتانی کے ایشو پر بات کر رہا ہے، شعیب اخترکسی کے قابو میں نہیں ہے۔ رمیزراجہ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں بھی ایمرجنسی لگا کر اس میں سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ شعیب اخترکی بار بار بات کی جاتی ہے وہ کتنے میچ پورا کھیلا ہے۔ اس کی فٹنس دیکھ کر مجھے اس کے کیریئر سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہیں۔ ٹیسٹ تو دورکی بات مجھے شعیب اختر ون ڈے میچ کے قابل بھی نہیں لگتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ بار بار آزمائے ہوئے کھلاڑیوں کو مزید موقع نہ دے۔ سلیکٹرز اب نئے کھلاڑیوں کو موقع دے کر نئی ٹیم تیارکرے اگر ایک میچ کی جیت کے انتظار میں ہمیں پرانے چہروں کو موقع دینا ہے اور شکست کا سامنا کرنا ہے تو ہمیں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہوگا، یہ فیصلے فوری کرنے کی ضرورت ہے۔