بنگلور (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک12دسمبر2007)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ بھارت کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے پاس کسی بھی کلاس کا کوئی باؤلر موجود نہیں ۔یہ افسوس کی بات ہے کہ بہت سے سالوں میں پہلی دفعہ نظر آیا ہے کہ پاکستانی باؤلنگ ایوریج سے بھی نیچے دکھائی دے رہی ہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا عامر سہیل کے يہ ریمارکس کہ وسیم ،وقار یونس اور انضمام نے نئے باؤلروں اور بلے بازوں کی تربیت کے لئے کچھ نہیں کیا پر کہا کہ میں ریکارڈ کو درست کرتے ہوئے بتاتا ہوں کہ ہمارے وقت میں جو بھی ہمارے سامنے آیا ہم نے اس کی بھرپور تربیت کی،1993ء میںہم عامر نذیر کو ویسٹ اینڈیز لے گئے اور اسے ریورس سوئنگ سمیت سب کچھ سکھایا اور ہم نے دوسرے باؤلروں کو بھی ٹیکنیک دیں ۔ عامر سہیل بھی پاکستانی ٹیم کا چیف سلیکٹر رہا ہے وہ بھی باؤلروں کی تربیت کے لئے بہت کچھ کر سکتاتھامیں اتنا کہوں گا کہ کمنٹری بکس میں بیٹھ کر کسی کو الزام دینا آسان ہوتا ہے ۔میںنے موجودہ کھلاڑیوں میں اور اپنے دور کے کھلاڑیوں میں بڑا فرق پایا ہے میں اور وقارٹیسٹ میچ میں ایک ہی دن میں 30،30 اوورز پھینکا کرتے تھے موجودہ کھلاڑی اگر ٹیسٹ میچ کھیلنا چاہتے ہیں تو انھیں زیادہ مضبوط ہونا پڑے گا ۔شعیب اختر کے زخمی ہونے سے یونس خان پریشر میں آگئے کیونکہ وہ صرف تین باؤلروں کے ساتھ کھیل رہا تھا جس سے اس کے لئے کافی مشکل ہو گئی ۔ یاسر اچھا باؤلر لگتا ہے لیکن اس قسم کی وکٹوں پر اسے جدوجہد کرنا پڑے گی ۔