کراچی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک17-دسمبر2007)قومی کرکٹ ٹیم کے سٹار بیٹسمین یونس خان نے کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بعض مشکل اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے‘ پاکستان کرکٹ بورڈ مجھے کپتان بنانا چاہتا ہے تو میں تیار ہوں لیکن دو تین سال بعد میری کرکٹ ختم ہوجائے گی‘ میں کپتانی کسی طرح کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی شرائط پر پاکستانی ٹیم کی کپتانی کرنا چاہتا ہوں‘ پاکستان کرکٹ بورڈ مجھے ٹیم تیار کرنے کے لیے 6 ماہ کا وقت دے‘ 6 ماہ میں ٹیم کھڑی کرکے دکھادوں گا۔ پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ ہم نے سب سے پہلے یونس خان کو کپتانی سونپی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا‘ اب تاخیر ہوچکی ہے‘ یونس خان نے کہا کہ سابق کپتان عمران خان‘ وسیم اکرم اور انضمام الحق وغیرہ مجھے کپتان بنانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں‘ اب میں نے کپتان بننے کی ٹھان لی ہے‘ مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت بورڈ مجھے کپتان بنائے گا لیکن میں نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے گیند پی سی بی کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔ پاکستان کی جانب سے 58 ٹیسٹ اور 160 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے 30 سالہ یونس خان نے کہا کہ میری کم از کم 3 شرائط ایسی ہیں جنہیں تسلیم کیے جانے کی صورت میں‘ میں کپتانی قبول کروں گا۔ یونس خان نے کہاکہ پی سی بی چاہتا ہے تو مجھے فوری طورپر کپتان بنادے‘ دو تین سال بعد میری عمر 34,33 سال ہوجائے گی اور میری کرکٹ باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کبھی کپتانی سے دلچسپی نہیں رہی کیونکہ پاکستان میں کپتان بننے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی کارکردگی خراب کرو‘ ورلڈ کپ کے بعد بھی میں نے کپتانی میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی‘ ابھی تک کپتانی سے بھاگ رہا تھا لیکن سابق کرکٹرز کی خواہش پر میں اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یونس خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو فتح گر بنانے کے لیے تبدیلیاں کرنا ہوں گی‘ اگر میری شرائط کو قبول کرکے کپتان بنادیا جائے تو میں ٹیم میں تبدیلیاں کرکے 6 ماہ میں ٹیم کو ٹھیک کردوں گا تاہم کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔