نئی دہلی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک18-دسمبر2007) بھارت کی ايک ثالثی عدالت نے پاکستان کے قومی کرکٹر محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا ۔ اس حکم کے تحت اب وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی منظور شدہ انڈین پریمیئر لیگ نہیں کھیل سکیں گے۔ انڈین کرکٹ لیگ کے ایگزیکٹیو وائس پریذیڈنٹ اشیش کول نے بی بی سی کو بتایا کہ 15دسمبر کو اس مقدمے کی سماعت تھی لیکن محمد یوسف اور ان کے وکیل ثالثی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے لہٰذا عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 21دسمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ محمد یوسف ان دنوں حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں۔ اشیش کول نے کہا کہ ثالثی عدالت کے حکم امتناعی کے تحت محمد یوسف بھارتی کرکٹ بورڈ کی منظور شدہ انڈین پریمیئر لیگ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی کا سیدھا سادہ مقدمہ ہے۔ انہیں بہت افسوس ہے کہ محمد یوسف جیسے بڑے کرکٹر نے اس طرح کا قدم اٹھایا۔ محمد یوسف کی جانب سے پاکستانی سول کورٹ میں آئی سی ایل کے خلاف دائر مقدمے کے بارے میں اشیش کول نے کہا کہ جب کرکٹرز سے معاہدے کئے جاتے ہیں تو ان کے عدالتی اختیار کا بھی تعین کرلیا جاتا ہے اور آئی سی ایل کے محمد یوسف کے ساتھ معاملے کا دائرہ اختیار بھی پہلے سے طے ہے لہٰذا محمد یوسف اگر دنیا میں کہیں بھی جا کر کیس کرتے ہیں تو اس کی کوئی بھی قانونی حیثیت نہیں۔ ياد رہے کہ محمد يوسف نے انڈين ليگ کھيلنے کا معاہدہ کیا تھا ليکن قومی ٹيم ميں شموليت کے لئے انہوں نے يہ معاہدہ توڑ دیا تھا۔ يوسف کا کہنا ہے کہ اس نے انڈين ليگ سے جو رقم وصول کی تھی وہ واپس کر دی تھی اس سلسلے ميں بورڈ نے ان کوقانونی مشاورت دينے کی يقين دہانی کرائی تھی۔