دبئی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک19-دسمبر2007) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیزراجہ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں انٹرنیشنل لابی کی جانب سے میلکم اسپیڈ کی جگہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کاچیف ایگزیکٹو آفیسر بنانے کی پیشکش ہوئی تھی لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ 45 سالہ رمیز راجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں‘ ان کاشمار ملک کے صف اول کے مبصرین اوررائٹرز میں ہوتا ہے۔ دنیائے کرکٹ میں ان کے تبصرے بڑی عزت اور احترام کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آسٹریلیا کے میلکم اسپیڈ کی جگہ رمیز راجہ کو پیشکش ہوئی تھی۔ رمیزراجہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے امورپر گہری نظررکھتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے 57 ٹیسٹ میں 2833 اور198 ون ڈے انٹرنیشنل میں 5841 رنز بنانے والے 45 سالہ رمیز راجہ کو انٹرنیشنل لابی کی جانب سے پیشکش ہوئی تھی کہ اگر وہ اس عہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ان کیلئے راہ ہموار کی جائے لیکن رمیزراجہ نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں فری لانس کمنٹری کررہا ہوں‘ میرے پہلے سے طے شدہ معاہدے ہیں اس لئے میں آئی سی سی کی ملازمت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ آئی سی سی کے صدر کے بعد چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سب سے بااثرہے۔ چیف ایگزیکٹو تنخواہ دارہوتا ہے ۔ میلکم اسپیڈ آئندہ سال جون میں اپنے عہدے سے ریٹائرہوجائیں گے جبکہ نیا چیف ایگزیکٹو اپریل میں ذمہ داریاں سنبھالے گا۔ آئی سی سی نے نئے چیف ایگزیکٹو کے تقرری کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ میلکم اسپیڈ کے دور میں آئی سی سی کو ڈیرل ہیئرسمیت بڑے بحرانوں سے گزرنا پڑا لیکن تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا۔ پاکستان کے احسان مانی آئی سی سی کے صدررہ چکے ہیں۔