سڈنی (اُردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک09-جنوری2008)بھارتی کرکٹ بورڈ کی آسٹریلوی ٹور ادھورا چھوڑنے کی دھمکی نے کام دکھا دیا اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔ آئی سی سی نے ویسٹ انڈین، امپائر کو پرتھ ٹیسٹ سے ہٹا کر بلی باؤڈن کی تقرری کردی اور ہربھجن کی پابندی کیخلاف بھارتی بورڈ کی اپیل کے فیصلے تک ان کو کھیلنے کی اجازت دیدی گئی۔ گزشتہ روز بھارتی بورڈ نے ہربھجن سنگھ کی تین ٹیسٹ میچوں کی پابندی کیخلاف باقاعدہ اپیل کردی۔ آئی سی سی کے ان فیصلوں کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ بھارتی بورڈ اپنی ٹیم کو دورہ شروع کرنے کی اجازت دے دے گا۔ دریں اثنا آئی سی سی نے بھارت آسٹریلیا سیریز کو کامیابی سے چلانے کیلئے سری لنکا کے آئی سی سی ریفری رنجن مدوگالے کو دونوں کپتانوں کے درمیان ثالت مقرر کیا ہے اور ان کو فوری طور پر سڈنی جانے کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ روز آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ نے بکنر کو تبدیل کرنے کی شدید مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ممبر ملک کو امپائر کی تقرری میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے مگر آئی سی سی میں بھارت کی مضبوط حیثیت کی وجہ سے ان کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ بھارت آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز میں امپائرنگ کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بعض فیصلوں کے متنازعہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہربھجن سنگھ پر تین میچوں کی پابندی کے خلاف بھارتی بورڈ نے اپیل کردی ہے جس کا فیصلہ پرتھ ٹیسٹ سے پہلے ممکن نہیں اس لئے وہ رولز کے مطابق اس ٹیسٹ میں کھیل سکتے ہیں۔ بھارتی ٹیم نے ٹور کا وارم اپ میچ کل کینبرا میں کھیلنا ہے لیکن بھارتی بورڈ کی طرف سے ٹور معطل کرنے کے بعد کھلاڑیوں کو اگلے فیصلے تک سڈنی میں رکنے کی ہدایت کی گئی تھی اور ٹیم ابھی تک سڈنی کے ہوٹل میں مقیم ہے۔ آئی سی سی کی طرف سے ہربھجن سنگھ کی اپیل کیلئے جج کی تقرری اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ دریں اثنا مدوگالے کو سیریز کے ساؤتھ افریقی ریفری مائیک پراکٹر کی مدد کرنے کیلئے بھی کہا ہے۔ بھارتی بورڈ نے سٹیوبکنر کو پرتھ ٹیسٹ کی نگرانی سے ہٹانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ 24 جنوری سے ایڈیلیڈ میں شروع ہونے والے چوتھے اور آخری ٹیسٹ کیلئے بھی بلی باؤڈن اور پاکستان کے اسد رؤف کی تقرری کی گئی ہے۔