کراچی (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک )پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق کوچ باب وولمر کی یادوں میں اب بھی گم رہتے ہیں، ان کو فوت ہوئے 4 ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن وہ ابھی بھی انضمام کی سوچوں میں زندہ ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے باب وولمر کو انتہائی ذمہ دار کوچ قرار دیا اور کہا کہ اس نے ٹیم کے کلچر کو تبدیل کر دیا۔ باب کو یہاں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر باؤلرز کی انجری نے اسے بہت پریشان کیا لیکن انہوں نے ایک ینگ ٹیم کو پروفیشنل بنا دیا۔ کھلاڑیوں کو سمجھانے کيلئے وہ ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ اسی وجہ سے اب کھلاڑیوں کو نئے کوچ کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں دونوں ورلڈ کپ کا حصہ تھا جس میں ہماری ٹیم دوسرے راؤنڈ میں نہیں پہنچ سکی لیکن بطور کپتان یہ میرے لئے انتہائی تکلیف دہ لمحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی فٹنس پر بھروسہ ہے۔ 10 ہزار رنز بنانا میری خواہش نہیں میں خود کو اس اعزاز کا اہل سمجھتا ہوں۔ میں کسی بھی کپتان کی قیادت میں کھیلنے کيلئے تیار ہوں۔ اگر مجھے ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا تو قیادت میرا مسئلہ نہیں ہو گا۔ اصل کام ٹیم کو فتح دلانا ہو گا۔ 18 سال کرکٹ کھیل کر بھی اگر ٹیسٹ میں 10 ہزار رنز نہ بنا سکا تو ایک تشنگی باقی رہے گی۔