لاہور (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک ) 20 اوور ورلڈ کپ ميں شعيب اختر کی شرکت ايک مرتبہ پھر مشکوک ہو گئی ہے۔ ڈوپ ٹيسٹ کے علاوہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر پی سی بی نے فاسٹ باؤلر سے ہميشہ کيلئے چھٹکارا حاصل کرنے کا فيصلہ کر ليا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کسی پاکستانی فاسٹ باؤلر کے بارے میں یہ خبریں بھی گشت کر رہی ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر خفيہ طور پر لندن جا کر اپنا ڈوپ ٹيسٹ کروايا تو ان کے جسم میں نینڈرولون کی مقدار 2نينو گرام کے برابر نکلی جس کے باعث جب وہ کراچی پہنچے تو سخت گرمی ميں انہيں نيشنل سٹيڈيم کراچی کے پانچ چکر لگوائے گئے تاکہ پسينہ خارج ہونے کے باعث یہ مقدار دو نينو گرام سے کم ہو جائے ليکن شديد گرمی اور کافی دن پريکٹس نہ ہونے کے باعث جب انہيں جونےئر ترين کھلاڑيوں سے پٹائی کا سامنا کرنا پڑا تو ڈسپلن کی خلاف ورزی ميں مشہور اس فاسٹ باؤلر نے نہ صرف کھلاڑيوں کو برا بھلا کہا بلکہ ڈريسنگ روم کے دروازے کو بھی ٹھڈے رسيد کئے۔ جس پر پی سی بی کے حکام نے فاسٹ باؤلر کيخلاف ايکشن لينے کا فيصلہ کيا ہے۔ ذرائع نے بتايا ہے کہ ڈوپ ٹيسٹ کے رزلٹ بھی خفيہ رکھے جائيں گے ليکن اگر شعيب اختر کے جسم ميں نینڈرولون کی مقدار 1.8 نينو گرام بھی نکلی تو انہيں ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کے بہانے 20 اوورورلڈ کپ سے ڈراپ کر دیا جائے گا۔ کراچی کے ميچ ميں ان کی کارکردگی کو ديکھتے ہوئے پی سی بی کے پاس مناسب بہانہ موجود ہو گا اور اگر ان حالات ميں اگر شعيب اختر 20 اوورورلڈ کپ سے آؤٹ ہوئے تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ سے ہميشہ ہميشہ کيلئے بھی آؤٹ ہو سکتے ہيں۔دریں اثناء پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کے پریکٹس میچ میں جارحانہ رویے، بلے باز خالد لطیف کو گالیاں دینے اور ڈریسنگ روم کے دروازے کو پاؤں مارنے کا سخت نوٹس لیا ہے اور منیجر طلعت علی کو اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ٹیم کے منیجر طلعت علی نے گزشتہ روز اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ شعیب اختر ڈی ہائی ڈریشن کا شکار تھے جس کی وجہ سے وہ باؤلنگ ادھوری چھوڑ کر ڈریسنگ روم میں چلے گئے جبکہ خالد لطیف نے ان کو پانچ چوکے مارے جس سے وہ اپ سیٹ ہوگئے اور انہوں نے جارحانہ رویہ اپنایا۔ طلعت علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو فٹنس کا کوئی پرابلم نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے شعیب اختر کو تادیبی کارروائی میں جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس بار کرکٹ بورڈ کے سربراہ جو شعیب اختر کو کئی بار بدتمیزی پر معاف کرچکے ہیں کا کڑا امتحان ہے کہ وہ انہیں کس قدر سخت سزا دیتے ہیں۔