کراچی (اردپوائنٹ سپورٹس ڈیسک 3-اگست 2007)پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ انڈین کرکٹ لیگ میں حصہ لینے والے کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی سے محروم ہوجائے گا۔ یہ لیگ آئی سی سی سے منظور شدہ نہیں ہے لہٰذا اسے پاکستانی کرکٹ کے مفاد سے متصادم سمجھتے ہیں اور اس کی قطعاً حمایت نہیں کریں گے۔ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کرکٹ انڈین لیگ میں کھیلنا چاہتا ہے تو ہم اس کو نہیں روکیں گے، وہ خوشی سے جا سکتا ہے لیکن اس کے بعد اس کيلئے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہیں ہوگی، پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس بارے میں پالیسی واضح ہے۔ یاد رہے کہ انضمام الحق کو انڈین لیگ میں کھیلنے کی پیشکش ہوچکی ہے اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ متعدد پاکستانی کرکٹرز کو بھی پرکشش معاوضوں پر لیگ کھیلنے کی پیشکش ہوئی ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ اگر آئی سی سی نے ا نڈین کرکٹ لیگ کو منظور کرلیا تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی آج بیس کرکٹرز کو سنٹرل کنٹریکٹ دینے والا ہے اس میں باقاعدہ شق موجود ہے کہ کوئی کرکٹر بورڈ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک یا کاؤنٹی نہیں کھیل سکتا اور نہ ہی کسی کمرشل اشتہاری فلم میں کام کرسکتا ہے۔ یونس خان، یاسر عرفات اور دنیش کنیریا بورڈ کی اجازت سے کاؤنٹی کھیل رہے ہیں لیکن عمر گل اور محمد آصف کو اجازت نہیں دی البتہ ان کے ممکنہ مالی نقصان کی تلافی کی گئی ہے لیکن انڈین لیگ اس سے بالکل مختلف معاملہ ہے۔ دریںاثنا پی سی بی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کو ابھی تک اس کی اطلاع نہیں ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ انڈین کرکٹ لیگ کے منتظمین نے رابطہ قائم کیا ہے۔ دریں اثناء یہ بھی خدشہ پایا جارہا ہے کہ آج قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے سنٹرل کنٹریکٹ پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے کرکٹ تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوجائے گی۔