کراچی(اردپوائنٹ سپورٹس ڈیسک 3-اگست 2007) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کرتے ہوئے چیف لاسن پر کافی دباؤ ہوگا۔ میرے خیال میں ٹیم کيلئے قومی کوچ کی تقرری ضروری تھی۔ باب وولمر کا تجربہ بھی ناکام ہی رہا تھا۔ لاسن کو بڑی ٹیم کی کوچنگ کا بھی کوئی تجربہ نہیں ۔میں ہوتا تو شعیب اختر کو بہت اچھے طریقے سے استعمال کرکے ٹیم کو فتوحات دلاتا۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ملک میں کرکٹ کو تباہ کردیں گی۔ کراچی کیمپ میں حصہ لینے والے کھلاڑی ملک کے باصلاحیت ترین کرکٹرز ہیں ان کو برقرار رکھنا چاہیے اگرٹیم متحد ہوکر کھیلی تو 20 اوورز ورلڈکپ جیت جائیں گے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی چاہے انگلش میں بات نہ کرسکیں لیکن ان کو اس کی سمجھ ضرور ہے۔ ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی ضرورت نہیں۔ بیٹنگ کوچ کا تقرر اکیڈمیوں کيلئے کیا جائے۔ انضمام فٹ ہوں تو ان کو ٹیسٹ میں ضرور ہونا چاہیے۔ شعیب اختر کو اس کی مرضی کی فیلڈ دے کر باؤلنگ کرائی جائے تووہ کافی کامیاب رہے گا۔