لاہور(اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک07 اگست 2008)بیجنگ اولمپکس 2008ء کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم نے دوسرے پریکٹس میچ میں نیوزی لینڈکو 2-0سے شکست دیدی جبکہ پہلے میح میں پاکستان کو کوریا نے چار صفر سے شکست دیدی تھی ،بیجنگ میں کھیلے جانیوالے لگاتار دوسرے میچ میں پاکستانی فارورڈز نے انتہائی مایوس کن کھیل کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی گول سکورکرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔میچ کے دونوں گول پنالٹی کارنرپر ہوئے،پہلا گول کراچی سے تعلق رکھنے والے فل بیک عمران وارثی نے میچ کے ابتدائی5ویں منٹ میں داغ کراپنی ٹیم کو برتری دلائی اور 25ویں منٹ میں ایک بار پھر پنالٹی کارنر پر قومی ٹیم کے نائب کپتان محمد عمران نے گول سکورکرکے اپنی ٹیم کی برتری دوگنی کردی۔پہلا ہاف پاکستان کی دوصفر کی برتری پر ختم ہوا اور دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف بھر پورحملے کیے لیکن کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔پاکستان کو پورے میچ میں چھ پنالٹی کارنر ملے جن میں سے چارمواقع ضائع ہوئے۔گزشتہ میچ میں پاکستان کو آٹھ پنالٹی کارنر ملے تھے جن میں سے سات ضائع ہوئے اور ایک پنالٹی کارنر پر محمد عمران نے گول سکور کیا۔نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانیوالے اس میچ میں قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین اور فارورڈ وقاص شریف انجری کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکے۔نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں قومی ٹیم کے گول کیپر سلمان اکبر نے عمدہ گول کیپنگ کی اور حریف ٹیم کے تمام حملوں کا بھر پور دفاع کیا۔کوریا اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچز کے بعد پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کو کھلاڑیوں کی کارکردگی اور اپنی غلطیوں کا مکمل ادراک ہوگیا ہوگا کیونکہ تمام لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان کی فارورڈلائن اپ کافی مضبوط ہے تاہم دونوں میچز میں شکیل عباسی ،ریحان بٹ ،وقاص اکبر اورزبیر اور شفقت رسول نے مکمل طور پر مایوس کیا۔قومی ٹیم کی پریکٹس میچز میں ناقص کارکردگی کے بعد ایک بار پھرشائقین میں مایوسی چھا گئی ہے ۔ واضح رہے کہ تین مرتبہ کی اولمپک گولڈمیڈلسٹ پاکستانی ٹیم 11اگست کو بیجنگ اولمپکس میں برطانیہ کے خلاف اپنی مہم جوئی کا آغاز کررہی ہے۔