بیجنگ (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک07 اگست2008 )چین میں اولمپک کی افتتاحی تقریبات سے ایک روز قبل اولمپک مشعل اپنے سفر کے آخری مراحل میں دیوار چین پہنچی۔ اس موقع پر دیوار کی دونوں طرف لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے ہاتھ ہلا کر اور نعرے لگا کر مشعل کا استقبال کیا۔اولمپک مشعل نے بدھ کے روز اپنے سفر کے آخری مرحلے کا آغاز کیا تھا۔ دیوار چین کے بعد مشعل ملک کے دارالحکومت بیجنگ کے مضافات سے گزرے گی اور آج اولپمک کھیلوں کے افتتاح کے موقع پر معشل روشن کی جائیگی۔یونان سے سفر شروع کرنے کے بعد مشعل نے 6 بر اعظموں میں سفر کیا ہے۔ جمعرات کی صبح جب مشعل کو دیوار چین پر روشن کیا گیا تو گہری دھند چھائی تھی اور سینکڑوں لوگ پیلے اور لال لباس میں گزرگاہ کے دونوں طرف قطار میں کھڑے تھے۔ اس موقع پر غبارے اور کبوتر بھی چھوڑے گئے۔قریبی پہاڑوں پر ایک دنیا، ایک خواب کا نعرہ تحریر کیا گیا تھا جو صبح کی دھند میں نظر نہیں آیا۔ چین کی حکمت عملی تھی کہ مشعل کو اس مرحلے میں بڑے جلوسوں میں دنیا کے مشہور ترین مقامات سے گزارا جائے۔ ڑاوٴہونگ لْو جنہوں نے مشعل کے ساتھ دنیا بھر کا سفر کیا بتایا کہ یہ انتہائی جذباتی دن ہے۔ہمیں کئی بار رونا آیا۔ یہ بہت جذبات سے بھرپور لمحہ ہے، چینی عوام کا رد عمل متاثر کن ہے۔ مشعل جمعرات کو چین کے ایک اور تاریخی مقام ٹمپل آف دی ارتھ پر بھی گئی جو چین کے کمیونزم سے پہلے کے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔