کوریا (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک28-اپریل2008) اولمپک ٹارچ مشعل اتوار کو اپنے عالمی سفر کے سلسلے میں جنوبی کوریا پہنچ گئی ہے۔ 1988میں اس شہر (سیوٴل) نے اولمپک کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے تھے تاہم مظاہرین کا کہناہے کہ وہ اس شہر سے اولمپک کے سفر کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔مشعل ریلی کو اپنے اولمپک سفر کے دوران اس شہر میں 25کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہے تاہم حکام نے سفرکے حتمی فاصلے کے بارے میں بتانے سے گریز کیا ۔8000پولیس نفری کو اس سلسلے میں تعینات کیا جاچکا ہے اس کے ساتھ 100کے قریب تجربہ کار میراتھن حکام اس ریلی میں شرکت کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ میں ملوث پائے گئے شخص کو فوری طورپر گرفتار کیا جائے گا ۔ مظاہرین کی جنوبی کوریا آمد شروع ہوگئی ہے جبکہ مقامی پولیس مظاہرین سے نبر د آزما ہونے کا تجربہ رکھتی ہے جس نے 1980کی دہائی کے جمہوریت حامی تحریک میں مظاہرین کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اورحالیہ امریکہ کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کے دوران احتجاج کاروں کو قابو کیاتھا ۔سرگرم مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ چین کے شمالی کوریا کے پناہ گزینوں کی پالیسیاں اورتبت میں اس کے کریک ڈاؤن کے خلاف مشعل کے سفرکو سبوتاژ کریں گے ۔ ریلی کی دوڑ کے لئے منتخب ہونے والے دو جنوبی کو رین باشندوں نے کہاکہ وہ چین کے تبت میں کریک ڈاؤن کی وجہ سے اس ریلی میں شرکت نہیں کریں گے۔