پیانگ یانگ (اردوپوائنٹ سپورٹس ڈیسک29-اپریل2008) اولمپک مشعل اپنا عالمی سفر طے کرتے ہوئے پہلی بار پیر کے روز شمالی کوریا سے گزری ۔شمالی کوریا چین کا حامی ہے لہذا قبل ازیں یہاں سے مشعل کے پرسکون سفرکی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ہزاروں شائقین کی موجودگی میں ریلی کا آغاز پیانگ یانگ سے ہوا جنہوں نے چین کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ۔ تقریب کی صدارت پارلیمنٹ کے سربراہ کم ینگ نام نے کی ۔ شمالی کوریا چین کا حلیف ملک ہے جس نے دنیا بھر میں اولمپک کے سفر کو سبوتاژ کرنے کی شدیدمخالف کی ۔شمالی کوریا نے چین کے تبت میں علیحدگی پسند مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ 20کلومیٹر کے فاصلے پر محیط ریلی میں شمالی کوریا کے ایتھلیٹس نے حصہ لیا ۔ کم نے اولمپک مشعل شمالی کوریا کے نامور فٹبال کے کھلاڑی پاک دو یک کے حوالے کی جن کی موجودگی میں ٹیم نے 1996 کے ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی ۔ہزاروں کی تعداد میں تماشائیوں نے ا س تقریب کو سراہا جنہوں نے اس موقع پر پھول اوربیجنگ اولمپک کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ۔اولمپک مشعل پیر کی علی الصباح حریف ملک جنوبی کوریا سے خصوصی طیارے کے ذریعے لائی گئی جہاں تبت کے حامی افراد نے اولمپک کے اس سفر کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تھی ۔